خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) ایران جنگ نے عالمی معیشت اور توانائی کے نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں جن کے اثرات جنگ بندی کے بعد بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
سی این این کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے لئے متبادل راستے اور سکیورٹی انتظامات کی ضرورت بڑھ گئی ہے، چین نے اپنے بڑے تیل ذخائر استعمال کرکے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی لاتے ہوئے عالمی تیل منڈی میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران عالمی سطح پر تیل کی طلب توقع سے کہیں زیادہ کم ہوئی اور چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں بھی تیزی آئی۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا میں تیل کی طلب مستقل طور پر کم ہو سکتی ہے، برازیل، گیانا، کینیڈا، ناروے اور امریکا سمیت مشرقِ وسطیٰ سے باہر تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے متبادل پائپ لائنز اور زمینی راستے اختیار کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
جنگ نے عالمی توانائی تجارت کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے اور اوپیک کو بھی رکن ممالک کی بڑھتی ہوئی پیداواری خواہشات کے باعث نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔