محدود ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنے والا یک قطبی عالمی نظام ماضی کا حصہ بن رہا ہے: پوتن

محدود ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنے والا یک قطبی عالمی نظام ماضی کا حصہ بن رہا ہے: پوتن

صدر ولادیمیر پوتن نے برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی، جغرافیائی اقتصادی، تکنیکی اور سماجی شعبوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ دنیا میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے، جس میں انسانی طرز زندگی، صحت کی سہولتوں کی سطح اور ماحول کا معیار نمایاں طور پر شامل ہیں۔

صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ معاشروں کی ساخت اور دنیا کا آبادیاتی نقشہ تبدیل ہو رہا ہے جبکہ محدود ممالک کے مفادات کے لیے کام کرنے والا بین الاقوامی تعلقات کا یک قطبی نظام ماضی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی طاقت کا توازن اب عالمی جنوب اور مشرق میں ابھرنے والے ترقی کے نئے مراکز کے حق میں دوبارہ تقسیم ہو رہا ہے۔

روسی صدر کے مطابق دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور عالمی مسائل کے حل میں شرکت کے لیے اپنی آمادگی کا واضح اور دوٹوک اظہار کر رہے ہیں۔

صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام میں حقیقی کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی حکمرانی کے طریقہ کار، اہم بین الاقوامی سیاسی اور اقتصادی اداروں اور سنگین چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کی کوششوں میں زیادہ سے زیادہ ممالک کو شامل کیا جانا چاہیے۔

صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ عالمی خوشحالی اور عوامی فلاح کے حصول کے لیے بین الاقوامی امن و استحکام کو یقینی بنانے کی مشترکہ کوششیں بھی انتہائی ضروری ہیں۔