خلاصہ
- ریاض: (دنیا نیوز) سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ مدینہ منورہ اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کی جانب آنے والے 5 ڈرون فضا میں تباہ کر دیئے گئے۔
اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق دفاعی کارروائی کے دوران چاروں ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم حملے کے ممکنہ نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ پیش رفت سعودی عرب میں فضائی خطرات اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، سعودی حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات جاری کیے جانے کے بعد صورت حال واضح ہو سکے گی۔
دوسری جانب حوثی ملیشیا کے خلاف آپریشن ’’فجر الیمن ‘‘ جاری ہے، یمنی فورسز نے 200 حوثیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی کے مطابق 24 گھنٹوں میں حوثیوں کے خلاف 744 حملے کئے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کے کمانڈ سینٹرز، جنگجوؤں، اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، صوبہ تعز میں حوثی ملیشیا کی پیش قدمی روک دی گئی۔
حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے بعد 10 اکتوبر سے عارضی طور پر بند سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو محدود اور سخت ترین شرائط کے ساتھ فضائی ٹریفک کیلئے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری تازہ نوٹم کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر آمد اور روانگی کی پروازوں کیلئے ایوی ایشن اتھارٹی سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہے۔
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریاض کو متبادل ایئرپورٹ کے طور پر استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔