خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کردیا۔
ان رہنماؤں نے ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی بڑی وجہ ایران جنگ اور مہنگائی کو قرار دیا، یورپ کی کئی دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنما ماضی میں ٹرمپ کے نظریات اور سیاسی تحریک کے کھلے حامی رہے ہیں، تاہم اب وہ ان سے اپنی قربت کم ظاہر کر رہے ہیں۔
فرانس کی نیشنل ریلی پارٹی کے سربراہ جورڈن بارڈیلا نے کہا ایران میں امریکی مداخلت کے عالمی معیشت پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
جرمنی کی الٹرنیٹو فار جرمنی پارٹی کی شریک سربراہ ایلس وائیڈل نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مداخلت پسند خارجہ پالیسی اختیار نہیں کریں گے، لیکن اس وعدے سے انحراف کا خمیازہ ریپبلکنز کو انتخابی شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
اٹلی کی حکمران اتحادی جماعت لیگ کے رہنما میٹیو سالوینی نے بھی امریکی انتخابی نتائج کی وجہ جنگوں، عالمی کشیدگی اور مہنگائی کو قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ نتائج تنازعات کے خاتمے اور امن کی بحالی کا ذریعہ بنیں گے۔
سپین کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس کے سربراہ سانتیاگو اباسکل نے بھی ٹرمپ سے اپنی سیاسی قربت ظاہر کرنے سے گریز کیا۔