خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی کا دائرہ بحیرہ کیسپین تک بڑھانے اور ایران کی زمینی سرحدوں کے ذریعے نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے نئی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ہفتے کے روز متوقع ہے، جس کا نام ’’آئرن گیٹ‘‘ رکھا گیا ہے، ٹاسک فورس کا ہیڈکوارٹر امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں قائم ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئی ٹاسک فورس دیگر امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور اس کی بنیادی توجہ ایران کو جدید ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی فراہمی روکنے پر ہوگی۔
رائٹر کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ایران کی زمینی سرحدوں کے ذریعے ہونے والی نقل و حرکت کو بھی محدود کرنے کی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔
امریکی منصوبے کے تحت ایران کے شمالی ساحل سے ہونے والی بحری تجارت پر بھی دباؤ بڑھایا جائے گا، بحیرہ کیسپین ایران کے شمال میں واقع ہے اور پانچ ممالک کے درمیان مشترکہ آبی گزرگاہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بحیرہ کیسپین ایران کے لیے تیل کی برآمدات اور ضروری اشیا کی درآمد کا ایک متبادل تجارتی راستہ ہے، اس سمندر میں ناکہ بندی یا بحری نقل و حرکت پر پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی روس، قازقستان، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ بحری تجارت متاثر ہونے کا امکان ہے۔