رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑنے کی پیشگوئی

رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑنے کی پیشگوئی

روپے کی قدر میں گراوٹ، شرح سود میں مسلسل اضافہ اور قلت آب رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی امیدوں کے برعکس رواں مالی معاشی ترقی کی رفتار 6.2 فیصد کے بجائے زیادہ سے زیادہ 5.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ قلت آب سے زرعی پیداوار متاثر ہوگی تو دوسری جانب ڈالر مہنگا ہونے سے پٹرول، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ ہوگا، جس سے مہنگائی مقرر ہدف 6.5 کے بجائے 7.5 فیصد تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال ایکسپورٹس میں اضافے کی امید نہیں ہے جبکہ امپورٹس کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے 4 ارب ڈالر تک بڑھ کر 60 ارب ڈالر کو چھو سکتا ہے۔