تازہ ترین
  • بریکنگ :- کل رات سےجاری ریاستی دہشتگردی کی مثال کبھی نہیں دیکھی،علی زیدی

پہلی سہ ماہی: ایف بی آر نے ہدف سے زیادہ ریونیو حاصل کر لیا

Published On 30 September,2021 10:06 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں محاصل کے حصول میں38.3فیصد ریکارڈ اضافہ حاصل کیا ہے اور پہلی سہ ماہی میں 1395 ارب روپے کا ریونیوحاصل کیا ہے جو کہ اس عرصہ کے مقرر کردہ ہدف 1211ارب سے 186ارب زائد ہے۔

فیڈرل بور ڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال 22-2021 کی پہلی سہ ماہی میں حاصل کردہ محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق ایف بی آر نے رواں مالی سال پہلی سہ ماہی میں 1395 ارب روپے کا نیٹ ریونیوحاصل کیا ہے جو کہ اس عرصہ کے مقر ر کردہ ہدف 1211ارب روپے سے 186ارب زائد ہے۔

ایف بی آر نے ماہ ستمبر کے اعدادو شمار بھی جاری کر دیئے ہیں۔ ستمبرمیں ریونیو نیٹ کولیکشن 535ارب روپے رہا جو کہ پچھلے سال ستمبرکے حاصل کردہ نیٹ ریوینیو 408 ارب کے مقابلے میں31.2 فیصد زائد ہے۔ ماہ ستمبر کے آخری دن کے اختتام تک اور بک ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حاصل ہونے والی وصولیوں کے بعدمحصولات کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اسی طرح گراس ریونیو پچھلے سال جولائی، ستمبر 2020 کے 1059 ارب روپے کے مقابلے میں امسال 1454ارب روپے رہا اور37.3فیصد اضافہ حاصل ہوا۔ جولائی- ستمبر 2021 میں59 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں49 ارب روپے تھے۔ ریفنڈز کے اجراء میں20.2 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے ۔ ریفنڈز کی تیز تر ادائیگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر مختلف صنعتوں کو درپیش لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹیکس سال 2020-21 میں 4.7 کھرب روپے کا ہد ف سے زائد ریونیو حاصل کرنے کے بعد ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی ہدف سے زائد محاصل کرنے کی وہی رفتار برقرار رکھی ہے اور رواں مالی سال پہلی سہ ماہی میں ٹیکس ریونیو میں ریکارڈ اضافہ حاصل ہو اہے۔

پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر نے ہدف سے186 ارب روپے زائد حاصل کئے ہیں۔یہ شاندار کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر رواں مالی سال کے 5829 ارب روپے کے ہدف کے تعاقب میں پر اعتماد انداز میں آگے بڑھتا نظر آرہا ہے باوجود اس کے کہ اس کے سامنے کرونا وبا کے باعث درپیش مشکلات ، قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات اور مختلف ٹیکسوں میں دی گئی حکومت کی طرف سے چھوٹ کے عوامل بھی شامل ہیں۔