جام کمال خان کی زیر صدارت اجلاس، برآمدات میں اضافے اور صنعتی مسائل کے حل پر غور

جام کمال خان کی زیر صدارت اجلاس، برآمدات میں اضافے اور صنعتی مسائل کے حل پر غور

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ برآمد کنندگان کے مسائل پر قابلِ عمل سفارشات تیار کرکے وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی، جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ ملک کے مختلف برآمدی شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری نمائندوں نے آن لائن اور بالمشافہ شرکت کی۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں تنوع، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے فروغ اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حکومت کی ترجیحات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔

اجلاس میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اخراجات، ٹیکسوں اور پیداواری لاگت میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے بجلی اور گیس کی قیمتوں، کیپٹو پاور گیس لیوی، صوبائی انفراسٹرکچر لیویز، ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی، ڈیجیٹل انوائسنگ اور بینکاری ضوابط سے متعلق مسائل بھی اٹھائے۔

برآمد کنندگان نے بین الاقوامی شپنگ میں تاخیر اور بندرگاہوں کی سہولتوں سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی، جبکہ عالمی شپنگ میں رکاوٹوں کے پیش نظر برآمدی ادائیگیوں کی مدت میں لچک پیدا کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ ایف بی آر حکام نے ٹیکس ریفنڈز کے نظام میں بہتری اور ڈیجیٹل انوائسنگ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی، جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے گیس لیوی کے طریقہ کار اور متعلقہ امور پر وضاحت پیش کی۔

اجلاس میں پاکستان کی برآمدات کی مسابقت بہتر بنانے کے لیے بھارت اور بنگلہ دیش کو حاصل ترجیحی تجارتی سہولتوں کا جائزہ لینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ کاروباری نمائندوں نے بہتر دوطرفہ تجارتی معاہدوں اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔

کاروباری برادری نے برآمد کنندگان کے لیے ایگزم بینک کی اسکیم کو سراہتے ہوئے اسے برآمدی فنانسنگ میں بہتری اور عالمی منڈیوں تک کاروباری رسائی بڑھانے کے لیے مثبت اقدام قرار دیا۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے مختلف برآمدی شعبوں کے نمائندوں کو اپنے مسائل پیش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کے مسائل تحریری شکل میں متعلقہ اداروں کو بھیجے جائیں گے تاکہ ان سے جواب اور قابلِ عمل سفارشات حاصل کی جا سکیں۔

اجلاس میں گوشت اور لائیو اسٹاک کے برآمد کنندگان نے منہ کھر کی بیماری، عالمی حفظانِ صحت کے تقاضوں اور خلیجی منڈیوں تک رسائی میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ جام کمال خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر تجارت کے مطابق حکومت لائیو اسٹاک میں بیماریوں کی روک تھام، بہتر افزائشِ نسل، سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ اجلاس میں نجی شعبے کی قیادت میں خصوصی لائیو اسٹاک بورڈ کے قیام کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

معدنیات کے برآمد کنندگان نے کان کنی میں استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد پر پابندیوں اور ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق مسائل اجاگر کیے۔ سرجیکل آلات کے شعبے کے نمائندے اور سی ای او قیصر سلیم شبیر نے جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت اور صنعتی سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرجیکل آلات کی برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتی جدت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ضروری ہے۔

اجلاس میں کاروباری ویزوں، بین الاقوامی معیار کی پابندیوں اور برآمدی شعبے کو درپیش انتظامی رکاوٹوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جام کمال خان نے کہا کہ وزارت تجارت مختلف شعبوں کے مسائل یکجا کرکے متعلقہ وزارتوں سے جواب طلب کرے گی اور برآمد کنندگان کے مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل سفارشات وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ برآمد کنندگان کے ساتھ مشاورتی عمل 21 اکتوبر 2026 کو بھی جاری رہے گا۔ بلال اظہر کیانی کے مطابق آئندہ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے جوابات اور زیرِ التوا مسائل کا دوبارہ جائزہ لے کر مزید غور کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔