خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) اس خطے میں کئی روایتی کھیل جو کبھی بہت مقبول تھے، اب معدوم ہوتے جا رہے ہیں، ان میں پنجاب میں کھیلا جانے والا شٹاپو اور خیبرپختونخوا میں کھیلا جانے والا چندرو شامل ہیں جو دراصل ایک ہی کھیل کے دو مختلف نام ہیں۔
چندرو بچپن کا وہ کھیل ہے جو صرف چند لکیر نما خانوں، پالش کے خالی ڈبے یا پھر پتھر کے ایک گول ٹکڑے کی مدد سے کھیلا جاتا، تب نہ کوئی مہنگا کھلونا ہوتا، نہ سکرین کی چمک، بس ایک پتھر، کچھ لکیریں، اور چند سہیلیاں ہی خوشی کے لیے کافی تھیں مگر اب یہ علاقائی کھیل خواب بنتا جا رہا ہے۔
چندرو صدیوں پرانا ایک روایتی کھیل ہے اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے کھیلا جاتا ہے۔
اس کھیل کو سات خانے ہونے کی وجہ سے اردو میں اس کھیل کو سات سمندر بھی کہا جاتا ہے، اس کھیل کو پنجاب میں شٹاپو اور خیبرپختونخوا میں چندرو کہا جاتا ہے، خیبرپختونخوا میں چندرو خاص طور پر لڑکیوں میں بہت مقبول رہا ہے، عموماً سات سے 14 سال کی بچیاں یہ کھیل اپنے گھر کے صحن یا گلیوں میں کھیلا کرتی تھیں۔
کھیل کے لیے زمین پر چاک یا مٹی سے مخصوص خانے بنائے جاتے، جن میں ایک پتھر یا مٹی سے بھری خالی ڈبی اچھال کر، ایک پاؤں پر چھلانگیں لگاتے ہوئے خانے پار کیے جاتے، اگر کسی کھلاڑی کا پاؤں لکیر پر آ جائے یا پتھر غلط جگہ گرے تو وہ کھلاڑی ’آؤٹ‘ ہو جاتی اور باری اگلی کھلاڑی کی ہوتی۔
یہ کھیل نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ جسمانی صحت، توازن اور مہارت کا امتحان بھی ہے، بچیوں کی پھرتی، ذہانت اور ہم آہنگی اس کھیل میں خوب نکھرتی ہے جو لڑکی تمام خانے کامیابی سے مکمل کر لیتی ہے وہ بادشاہ قرار پاتی، مگر جدید ٹیکنالوجی، سکرینز اور برقی کھلونوں کی وجہ سے یہ سادہ مگر بھرپور کھیل ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، چندرو جیسے بے شمار کھیل اب صرف کہانیوں، یادوں یا بزرگوں کی باتوں میں ہی باقی رہ گئے ہیں۔
پنجاب میں یہی کھیل شٹاپو کے نام سے کھیلا جاتا ہے، گوجرانوالہ کے ایک سکول کی چھت پر بریک ٹائم کا منظر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت برسوں پیچھے لوٹ گیا ہو، آج کل جہاں زیادہ تر بچے موبائل فون پر مصروف دکھائی دیتے ہیں، وہیں اس سکول میں بچیاں لڑکیاں قطار بنا کر ’شٹاپو‘ کھیلتی نظر آتی ہیں۔
کوئی خانے بنا رہی ہے، کوئی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے، یہ سب دیکھ کر بچپن کی خوبصورت یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے ہم اپنے بچپن میں واپس چلے گئے ہوں، یہ کھیل، جو کبھی محلے کی گلیوں اور سکول کے صحن میں ہر بچہ کھیلتا تھا، اب بہت کم نظر آتا ہے، لیکن جن علاقوں میں بچوں تک موبائل فون کی رسائی ابھی زیادہ نہیں ہوئی، وہاں یہ کھیل اور روایات آج بھی زندہ ہیں۔
خیبرپختونخوا کی طرح پنجاب میں بھی اب یہ روایتی کھیل بہت کم دکھائی دیتے ہیں، موبائل فون نے بچوں کو اپنی طرف زیادہ کھینچ لیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ بچوں کو فزیکل گیمز کی طرف لایا جائے تاکہ وہ صحت مند بھی رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت بھی واپس آئے۔
ہمارے ہاں موبائل، کمپیوٹر لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس کی وجہ سے بچوں کا سکرین ٹائم بڑھ گیا ہے اور جسمانی کھیل کم ہو گئے ہیں تو میری اپنی تمام بہنوں، بیٹیوں سے یہ گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو علاقائی و عوامی کھیلوں سے روشناس کرائیں تاکہ ہماری بچے کھیل کھود کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جسمانی طور پر ایک صحت مند زندگی گزارسکیں اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔