گھر بچوں کے نام نہ کیا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے: ترنم ناز

گھر بچوں کے نام نہ کیا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے: ترنم ناز

لیجنڈری کلاسیکل گلوکارہ ترنم ناز نے حال ہی میں پروگرام میں شرکت کی اور اپنی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔ سوال کے جواب میں ترنم ناز نے بتایا کہ میں نے اپنی محنت کی کمائی سے زمین لی اور اپنی پسند کے مطابق اپنا گھر بنایا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ بچے اُس وقت چھوٹے تھے تو میں نے یہ گھر ان کے نام کردیا کہ چاہے گھر میرے نام ہو یا بچوں کے نام، ایک ہی بات ہے، انہوں نے نہایت دکھ میں بتایا کہ جب بچے بڑے ہوگئے اور ان کی شادی کرائی تو وہ گھر میں سے حصہ مانگنے لگے۔

انھوں نے مزید کہا کہ والدین کی حیثیت اور اہمیت مختلف ہوتی ہے جب وہ خود اپنی پراپرٹی کے مالک ہوں انہوں نے تسلیم کیا کہ اپنا گھر بچوں کے نام کردینا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کا دکھ مجھے ہمیشہ رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بچے اب بھی تابعدار ہیں لیکن اگر گھر میرے ہی نام رہتا تو صورت حال مزید بہتراور کچھ مختلف ہوتی۔

ترنم ناز کو پاورفل آواز اور کلاسیکل پی ٹی وی گانوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے، وہ استاد عاشق حسین کی شاگردہ رہ چکی ہیں اور میڈم نور جہاں سے کافی مماثلت بھی رکھتی ہیں۔

انھیں کلاسیکل موسیقی میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر حکومت پاکستان نے پرایڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا ہے۔