پٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ، شفاعت علی کا حکومت کو اہم مشورہ

پٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ، شفاعت علی کا حکومت کو اہم مشورہ

شفاعت علی نے بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کو دفاتر کے نظام پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شفاعت علی کا کہنا تھا کہ اگر پٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے تو اس سے بہتر حل یہ ہے کہ حکومت دفاتر کو عارضی طور پر بند کرکے کورونا وبا کے دوران رائج کی جانے والی ’ورک فرام ہوم‘ پالیسی کو دوبارہ نافذ کردے تاکہ لوگوں کو روزانہ سفر کے اخراجات سے کچھ ریلیف مل سکے۔

انہوں نے اپنے بیان میں عام آدمی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں کم آمدنی والے افراد کے لیے روزمرہ زندگی چلانا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔

ان کے مطابق اگر کسی شخص کی ماہانہ تنخواہ تقریباً چالیس ہزار روپے ہو تو وہ موٹر سائیکل کے پٹرول پر آنے والے اخراجات بھی پورے کرنے سے قاصر رہتا ہے، چاہے وہ اپنی جمع پونجی ہی کیوں نہ خرچ کر دے۔

شفاعت علی نے پٹرول کی قیمت میں اچانک 55 روپے فی لیٹر اضافے کو انتہائی سخت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلے عوام پر براہِ راست بوجھ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔