DAE کو بی اے کے مساوی قرار دینے والا نوٹیفکیشن جعلی قرار

DAE کو بی اے کے مساوی قرار دینے والا نوٹیفکیشن جعلی قرار

23 جولائی کی تاریخ والا ایک مبینہ نوٹیفکیشن فیس بک پر شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نگران ادارے پاکستان کی ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جانب سے ملک بھر کے تمام ایکریڈیٹیشن اور تصدیقی شعبوں کو جاری کردہ ہدایات پر مبنی ہے۔

مبینہ نوٹیفکیشن میں ایچ ای سی نے اعلان کیا ہے کہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (DAE)، جو تین سالہ پروگرام ہے اور میٹرک کے بعد کیا جاتا ہے، ’اب تعلیمی ترقی، ملازمتوں کے لیے درخواست دینے اور مقابلے کے امتحانات کے مقاصد کے لیے 14 سالہ تعلیم (یعنی انٹرمیڈیٹ + دو سال) کے مساوی تصور کیا جائے گا‘۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ DAE کو مساوی قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ یہ خاص طور پر انجینئرنگ ٹیکنالوجی، اپلائیڈ سائنسز اور ٹیکنیکل مینجمنٹ جیسے شعبوں کے متعلقہ بی ایس/بی ایس سی پروگراموں میں داخلے کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے ترجمان طارق اقبال نے میسجز کے ذریعے تصدیق کی کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ”یہ نوٹیفکیشن ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر پہلے ہی جعلی قرار دیا جا چکا ہے “، ایچ ای سی کے سرکاری X (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بھی اس دستاویز کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں واقع RED-C انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے چیف ایگزیکٹیو رحمت اللہ خان وزیرنے بھی تصدیق کی ہے کہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (DAE) کے تعلیمی اسٹیٹس سے متعلق کسی قسم کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔