تازہ ترین
  • بریکنگ :- چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
  • بریکنگ :- منی بجٹ تیارہوچکاہے، حکومت کہےگی توپیش کردیں گے،چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- سیلز ٹیکس کی چھوٹ واپس لی جارہی ہے ، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- لگژری اشیاء کی درآمدات پر ٹیکس لگائے جائیں گے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس کی سفارش ہے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقراررہےگی، چیئرمین ایف بی آر

کورونا ویکسین آئندہ برس کے وسط تک دستیاب ہو گی: جرمن حکومت پرامید

Published On 16 September,2020 05:18 pm

برلن: (ویب ڈیسک) جرمنی کی حکومت نے آئندہ برس کے وسط تک دنیا کی بیشتر آبادی کو کووڈ 19 کے ویکسین کے دستیاب ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔

جرمن وزیر صحت اور تحقیقاتی امور کی وزیر نے برلن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ امید ہے کہ آئندہ برس تک کووڈ 19 کی ویکسین تیار ہو جائیگی۔ اس پر جو تین جرمن کمپنیاں تحقیقاتی کام میں مصروف ہیں انہیں حکومت کی جانب سے فنڈز بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔

لیکن دونوں وزراء نے اس بات کے لیے خبردار بھی کیا کہ اس کے لیے کوئی   خطرناک شارٹ کٹ   راستہ نہیں اپنایا جائیگا اور یہ ویکسین دنیا کے بیشتر افراد کو آئندہ برس کے وسط تک ہی دستیاب ہو پائیگی۔

جرمن وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہم پہلے ویکسین تیار کریں بلکہ ہم ایک محفوظ اور موثر ویکسین چاہتے ہیں۔ اس معاملے میں ہماری سب سے بڑی ترجیح تحفظ ہے۔

اس موقع پر دونوں وزراء نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ جرمن حکومت نے کورونا وائرس کی ویکسین پر تحقیق کے لیے جو 75 ارب یورو کی رقم مختص کی ہے اس کا استعمال بائیو این ٹیک، کیور ویک اور آئی ڈی ٹی بائیولوجیکا جیسی تین کمپنیاں کریں گی۔ اس میں سے بائیو این ٹیک کو 375 ملین جبکہ کیور ویک کو 252 ملین دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آئی ڈی ٹی کمپنی کے ساتھ ا بھی اس بارے میں بات چیت چل رہی ہے۔

بائیو این ٹیک کے سی ای او اوگر ساہن کا کہنا تھا کہ کوڈ 19 کے لیے ویکسین کی تیز رفتار تیاری، اس کی تیزی سے پیداوار بڑھانے اور اس میں وسعت دینے کے لیے حکومتی سبسڈی بہت اہم ہے۔

اطلاعات کے مطابق بائیو این ٹیک اور کیور ویک نامی کمپنیاں  میسینجر آر این اے نامی ایک ویکسین پر کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس فارمولے کے تحت ویکسین کی تیاری اور اس کا پروڈکشن دوسروں کے مقابلے میں جلدی ہوتا ہے۔

گزشتہ ہفتے آکسفورڈ یونیورسٹی نے کووڈ 19 کے ویکسین میں شامل ہونے والے ایک رضا کار میں نامعلوم بیماری کا پتہ چلنے کے بعد تیسرے مرحلے کا اپنا تجرباتی عمل معطل کر دیا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینکا مشترکہ طور پر کووڈ 19 کے لیے یہ ویکسین تیار کر رہے تھے جو کلینکل تجربے کے تیسرے مرحلے میں تھا اور جس کے جلد ہی بازار میں آنے کی باتیں بھی کی جا رہی تھیں۔

اس واقعے کے فوری بعد ویکسین تیار کرنے والی معروف جرمن کمپنی بائیو این ٹیک اور کووڈ 19 کے لیے ویکسین تیار کرنے والی عالمی سطح کی دیگر معروف آٹھ دوا ساز کمپنیوں نے ان خدشات کے پیش نظر کہ کہیں جلد بازی میں کووڈ 19 کا ویکسین سیاسی دباؤ کا شکار نہ ہو جائے، اپنی ان کوششوں میں  سائنسی سالمیت  اور اس سے متعلق تمام اصول و ضوابط پر عمل کرنے کا عزم کیا تھا۔

آسٹرا زینیکا، بائیو این ٹیک اور موڈرنا جیسی عالمی دوا ساز کمپنیوں کے سربراہان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ہم بائیو فارماسوٹیکل کمپنیاں اس بات کو واضح کر دینا چاہتی ہیں کہ کووڈ 19 کے لیے ویکسین تیار کرنے اور اس کے تجرباتی مراحل میں تمام اعلی اخلاقی معیاروں اور ٹھوس سائنسی اصول و ضوابط پر عمل کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔