خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کم از کم ایک مرتبہ میٹھے یا کاربونیٹیڈ مشروبات استعمال کرنے والے افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ، مہینے میں ایک بار سے کم ایسے مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق طبی جریدے ’گیسٹرو ہیپ ایڈوانسز‘ میں شائع ہوئی ہے، جس میں 112 ہزار افراد کے کئی دہائیوں پر محیط صحت اور طرز زندگی کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، تحقیق کے دوران 278 افراد میں معدے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق کے مصنف اینڈریو چان کے مطابق یہ پہلی تحقیق ہے جس میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا ہے۔
تحقیق میں مصنوعی مٹھاس یا کم کیلوریز والے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے اضافی خطرے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا۔
محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق حتمی طور پر یہ ثابت نہیں کرتی کہ میٹھے مشروبات معدے کے کینسر کا سبب بنتے ہیں، تاہم ان کے روزانہ استعمال اور بیماری کے خطرے کے درمیان نمایاں تعلق سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل بھی میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال کو بڑی آنت، چھاتی اور جگر کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا جا چکا ہے۔