گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال کی چوری ادویات گودام سے برآمد، 4 افسران و اہلکار معطل

گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال کی چوری ادویات گودام سے برآمد، 4 افسران و اہلکار معطل

 محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے زیر انتظام گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال سے سرکاری ادویات کی مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آنے اور عوامی شکایات پر ڈرگ کنٹرول ٹیم نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے سرکاری ادویات ایک غیر قانونی گودام سے برآمد کرلیں۔

سرکاری ادویات کے ہسپتال سے نکل کر غیر قانونی گودام تک پہنچنے کے واقعے نے ہسپتال میں ادویات کی حفاظت، سٹاک مینجمنٹ اور محکمہ صحت کے مانیٹرنگ نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے حقائق جاننے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے چار رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔

محکمہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو 24 گھنٹوں کے اندر معاملے کے حقائق، ذمہ دار افسران و اہلکاروں اور ممکنہ غفلت یا ملی بھگت کا تعین کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے، کمیٹی ہسپتال کے سٹاک رجسٹرز، ادویات کے ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کی بھی چھان بین کرے گی۔

تحقیقاتی کمیٹی کو یہ بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ادویات کی منتقلی میں غفلت، مس کنڈکٹ یا کسی ممکنہ ملی بھگت کا جائزہ لے اور ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی سفارش کرے۔

دوسری جانب محکمہ نے مبینہ غفلت اور مس کنڈکٹ پر گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال کے چار افسران و اہلکاروں کو پیڈا ایکٹ 2006 کے سیکشن 6 کے تحت معطل کردیا ہے۔

معطل کیے جانے والوں میں ڈاکٹر شازیہ افضل، اے پی ڈبلیو ایم او، بی ایس 19، ایک فارماسسٹ بی ایس 17، سٹور کیپر بی ایس 9 اور وارڈ کلینر بی ایس 1 شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق چاروں معطل افسران و اہلکاروں کو محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ کی جانب سے فوری طور پر معطلی اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کے باوجود بنیادی سوال برقرار ہے کہ سرکاری ادویات ہسپتال کے سٹور اور نگرانی کے نظام سے نکل کر غیر قانونی گودام تک کیسے پہنچیں، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے ہی معاملے میں غفلت، بدانتظامی یا کسی ممکنہ ملی بھگت کے ذمہ داروں کا تعین ہوسکے گا۔