پانامہ کیس کا فیصلہ کن راؤنڈ، شریف خاندان کے وکیل آج دلائل جاری رکھیں گے

پانامہ کیس کا فیصلہ کن راؤنڈ، شریف خاندان کے وکیل آج دلائل جاری رکھیں گے

اسلام آباد: (دنیا نیوز) جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پانامہ لیکس کے فیصلہ کن راؤنڈ کا آغاز ہو گیا۔ سپریم کورٹ میں سماعت پر تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور شیخ رشید کا جے آئی ٹی رپورٹ پر بھرپور اعتماد اور وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ، جے آئی ٹی میں ریکارڈ بیانات کی حیثیت پولیس افسر کی تفتیش سے زیادہ نہیں، جسٹس اعجاز افضل کے ریمارکس، عدالت کے لیے لازم نہیں مشترکہ ٹیم کی رپورٹ کو تسلیم کرے، جسٹس اعجاز الااحسن
تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے قطری سرمایہ کاری، خطوط اور سپریڈ شیٹ کو افسانہ قرار دیا ہے۔ نواز شریف ایف زیڈ ای کمپنی کے چیئرمین نکلے، اقامے اور تنخواہ کی دستاویز بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سامنے ریکارڈ بیان کا جائزہ ضابطہ فوجداری کے تحت لیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قانونی تقاضوں کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا نواز شریف نے حسین نواز کو سعودی بینک سے سات لاکھ پچاس ہزار رال ٹرانفسر کیے۔ اس حوالے سے مشترکہ ٹیم کی دستاویز تصدیق شدہ نہیں؟ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ کیا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دستاویز قانونی طریقے سے حاصل کیں اور قانون کی نظر میں قابل قبول بھی ہیں یا نہیں، اگر ضرورت پڑی تو رپورٹ کے والیم 10 کو بھی کھول دیں گے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے مزید کہا کہ اگر مریم نواز بینیفیشل مالک ثابت ہوئی تو اس کے نتائج مریم نواز پر ہوں گے، نواز شریف پر اس کا اثر اس وقت پڑے گا جب یہ ثابت ہو گا کہ مریم والد کے زیر کفالت ہیں۔ شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مشترکہ ٹیم کی بیشتر دستاویز قانون کی نظر میں قابل قبول نہیں، جے آئی ٹی نے دستاویز پر گواہان کا موقف نہیں لیا۔ اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ مشترکہ ٹیم تحقیقات کر رہی تھی ٹرائل نہیں۔