تازہ ترین
  • بریکنگ :- جنوبی پنجاب صوبہ کاقیام تحریک انصاف کےمنشورکاحصہ ہے،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- ملتان:صوبہ بنانےکیلئےہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی، ن لیگ دونوں جماعتوں کی قیادت کو خط لکھے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- ابھی تک دونوں جماعتوں کی جانب سےجواب سامنےنہیں آیا،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی،ن لیگ جنوبی پنجاب صوبہ کیلئےبہت کچھ کرسکتےتھے،وزیر خارجہ

جوبائیڈن کی خارجہ پالیسی اور پاک، امریکہ تعلقات

Published On 20 January,2021 08:47 pm

لاہور: (خصوصی ایڈیشن) پاکستان کے چار ہمسایہ ممالک چین، ایران، افغانستان اور بالخصوص بھارت کے ساتھ امریکی صدر جوبائیڈن کا رویہ مشترکہ طور پر پاکستان اور امریکہ تعلقات کی نوعیت کا تعین کرے گا۔

وائٹ ہاؤس میں ایک ہندوستانی نژاد کے نائب صدر منتخب ہونے کے باعث امریکہ بھارت تعلقات کو مزید تقویت ملنے کے امکان ہیں۔ اسی طرح بھارت کی خارجہ پالیسی خطے میں بھارت کو امریکہ کا قریبی اتحادی ہونے کا اشارہ کرتی ہے۔

چونکہ بھارت پاکستان کا سب سے قدیم حریف ہے ، اس لئے امریکہ اور بھارت کے مابین قریبی تعلقات پاکستان کیلئے اچھی پیشرفت نہیں ہے ۔ امریکہ بھارت تعلقات پاکستان کی آئی ایم ایف جیسی کثیر الجہتی تنظیموں کے ساتھ معاہدوں کو مزید دشوار بناسکتے ہیں ۔ جو بائیڈن کی موجودگی میں مظلوم کشمیروں کے مؤقف کو عالمی دنیا میں پذیرائی ملنے کے قوی امکانات ہیں۔ بائیڈن نے ہمیشہ کشمیریوں کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے بھارت سے مظلوم کشمیریوں کو آزادی اظہار رائے اور خود مختاری کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس بات کی بھی توقع کی جا رہی ہے کہ جو بائیڈن اقتدار میں آتے ساتھ ہی مودی سرکار کی جانب سے 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے وفاق کے تحت دو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کی بھی مخالفت کرتے ہوئے پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے ۔ امریکہ کی جانب سے چین کے تناظر میں بھارت کو اسٹریٹیجک پارٹنر کی حیثیت برقرار رہے گی لیکن ساتھ ہی بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر بھی سوال اٹھائے جائینگے ۔ یوں امریکی صدر جو بائیڈن کے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی شمالی سرحد پر واقع چین کے ساتھ امریکہ کی سرد جنگ پچھلے کچھ سالوں سے عالمی سیاست کا مرکز بن چکی ہے ۔ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت چین سے قرضوں اور امداد میں اربوں ڈالر وصول کر چکا ہے ۔ چین کیلئے سخت پالیسی پاکستان پر بھی اثر انداز ہو گی۔البتہ جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد اب امریکہ کی جانب سے چین سے متعلق سخت پالیسی میں تبدیلی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ امریکہ جو سی پیک کا پہلے ہی مخالف ہے ، پاکستان کو سی پیک میں سست روی لانے کی جانب مائل کرنے کی کوشش کرے گا۔ پچھلی چار امریکی انتظامیہ جن میں دونوں رپبلکن اور ڈیموکریٹ شامل ہیں، بھارت کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں کہ بھارت چین کے بحر ہند اور جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کے آگے ایک فصیل بن کر کھڑا رہے ۔ امریکہ کے نذدیک سی پیک امریکی مفادات کے خلاف ہے اور اپنی اس ناپسندیدگی کا اظہار امریکی ترجمان مختلف مواقعوں پر ظاہر کر چکے ہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ سی پیک ان کی ایشیا اور چین کے بارے میں منصوبوں میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔چین کے معاملے پر بائیڈن ٹرمپ کی طرح جانبدانہ رویہ نہیں اپنائیں گے البتہ بائیڈن کی جانب سے معاشی اور سفارتی میدان میں چین پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔ اس سب کے باوجود پاکستان امریکہ اور چین کے مابین سرد تعلقات کو روانگی میں لانے کیلئے پل کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔

جو بائیڈن چوتھے امریکی صدر ہوں گے جنہوں نے 19 سالہ طویل افغان جنگی بحران کا سامنا کیا ہے ۔ اگرچہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کی موجودگی میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے اور اس وقت چند ہزار امریکی فوجی افغانستان میں باقی رہ گئے ہیں۔ گزشتہ سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے امن معاہدے نے امریکی فوجیوں کی مکمل وطن واپسی کی راہ ہموار کی ۔ انٹرا افغان مذاکرات میں امریکہ پہلے ہی پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کر چکا ہے ۔ نئے امریکی صدر جو بائیڈن کا اس حوالے سے مختلف طرز عمل اختیار کرنے کا امکان نہیں ہے ۔ پاکستان کو اوبامہ کے دور میں افغانستان کی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لئے ایک اہم فریق کہا گیا تھا، ٹرمپ انتظامیہ بھی اس بات کا اظہار کر چکی ہے جبکہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن کا اس حوالے سے مختلف طرز عمل اختیار کرنے کا امکان نہیں ہے ۔ افغان امن معاہدے میں بھارت کے بڑھتے اثرو رسوخ کو پاکستان پہلے ہی ناگوار سمجھتا ہے ۔ اگر بائیڈن نے بھارت سے افغانستان میں کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تویہ پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بجا دے گا۔ پاکستان افغانستان میں امریکہ کے مسائل حل کرنے میں اہم کھلاڑی کے طور پر پیش پیش رہے گا۔ اس بات کے امکانات ہیں کہ افغانستان کے معاملے پر ٹرمپ کی ہی اسٹریٹیجی کو اپنایا جائے گا البتہ طالبان کے ساتھ ڈائیلاگ کی شرائط میں مزید سختی ہو جائے گی۔ بائیڈن پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ افغانستان میں محدود شکل میں فوجی موجودگی کی کوشش کریں گے ۔ پاکستان کو جو بائیڈن اسی آئینے سے دیکھیں گے جس آئینے سے ٹرمپ دیکھ رہے تھے البتہ جو بائیڈن کی طرف سے ڈو مور کی صدا بلند نہیں ہو گی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی کی ایک پوری تاریخ ہے ۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے یک طرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علیحدگی اور گزشتہ برس ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سامنے آئی۔ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن ایران کے ساتھ جاری امریکی کشیدگی کو کم کرنے کے خواہاں ہیں۔ ماضی میں بھی ڈیموکریٹک امریکی صدر اوبامہ کے دور میں امریکہ ایران تعلقات مثبت سمت کی جانب گامزن تھے جس کو ٹرمپ اقتدار میں آتے ساتھ ہی ذبوں حالی کی جانب لے گئے تھے ۔ جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکہ اپنے عالمی کردار کو ایک بار پھر بڑھانے کی کوشش اور ایران کے ساتھ دوبارہ نیو کلیئر معاہدے کی کوشش کرے گا۔

جو بائیڈن اپنی نائب صدارت کے دور میں پاکستان کے دوست کے طور پر سامنے آئے تھے اور انہیں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے پاکستان کا دوسرا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ہلال پاکستان بھی مل چکا ہے۔اس کے علاوہ جو بائیڈن کیری لوگر بل کے خالقوں میں سے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو 7.5 ارب ڈالرز کی غیر فوجی امداد دی گئی تھی، اور یہ امداد ڈیموکریٹک پارٹی کی جمہوری سوچ کے مطابق پاکستان میں سویلین اداروں کی مضبوطی اور سماجی شعبوں کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے مختص کی گئی۔

اسرائیل کے حوالے سے ہر امریکی صدر کی ایک ہی پالیسی رہی ہے ، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کے بائیڈن بھی ٹرمپ کی طرح اسرائیل کی حمایت جاری رکھیں گے۔جو بائیڈن کئی عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے عمل کو پہلے ہی سراہا چکے ہیں اور اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ بائیڈن یروشلم میں نئے امریکی سفارت خانے کو بند کریں۔بائیڈن کے زیر صدارت خلیجی علاقائی صورتحال کو معمول پر لانے کی مہم جاری رکھے جانے کا امکان ہے، جس کے سبب عرب ممالک کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں کمی آسکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چار سالہ دورِ اقتدار میں مشرق وسطیٰ سے متعلق غیر روایتی پالیسی اپنائی جس کو جو بائیڈن اقتدار میں آتے ساتھ ہی تبدیل کر دیں گے۔ بائیڈن پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ وہ روایتی امریکی پالیسیوں کو اپناتے ہوئے علاقائی جیو پولیٹیکل نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کریں گے۔ سعودی عرب کو اس بات کا خوف ہے کہ محمد بن سلمان واشنگٹن میں خود کو اب تنہا محسوس کریں گے۔ جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالتے ہی یمنی جنگ میں سعودی کردار اور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کو ایک انسانی حقوق کے کیس کے طور پر دیکھیں گے اور اس کی تحقیقات بھی کرائی جائیں گی۔ ساتھ ہی جو بائیڈن کی جانب سے لیبیا میں جنگ کے خاتمے سے لے کر ترکی کے عراق میں کردار کے حوالے سے ان تمام مسائل پر توجہ دیں گے جن کو ماضی میں ٹرمپ انتظامیہ نظرانداز کرتی آئی ہے۔ علاوہ ٹرمپ کی جانب سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی فنڈنگ میں کمی کو بھی واپس بحال کیا جائے گا۔ بائیڈن نے شمالی کوریا سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کی یکسر مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنے پر رضا مندی ظاہر نہیں کرے گا وہ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان سے ملاقات نہیں کریں گے۔

جوبائیڈن کا منشور

متحدہ ہائے امریکہ کے 46 ویں صدر جوبائیڈن کے سیاسی کیریئر کا آغاز 1970 سے شروع ہوااور مختلف ادوار میں اہم حکومتی عہدوں پر فائز رہے ۔ 1972 میں امریکی ریاست پنسلوینیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا اور ریپلکن پارٹی کے مضبوط امیدوار جے کیلیپ بوگس کو شکست دے کر ملک کی تاریخ کے پانچویں کم سن ترین سینیٹر منتخب ہوئے ۔ اس کے بعد انھوں نے سینیٹ کے جتنے بھی انتحابات لڑے ان سب میں کامیاب ہوئے ۔ جو بائیڈن نے دو مرتبہ، 1988 اور 2007 میں امریکہ کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں حصہ لیا تاہم انھیں کامیابی نہ ملی۔ صدر باراک اوبامہ کے دونوں ادوار میں جوبائیڈن امریکہ کے نائب صدر کے عہدے پر فائزرہے ۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد شروع دن سے جوبائیڈن کی تنقید کی زد میں رہے ۔ ان کے حوالے سے جوبائیڈن کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ کو گورننس کے طور طریقوں کا کوئی علم نہیں۔ 2019 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ کی نسلی تعصب پر مبنی پالیسیوں کو امریکہ کیلئے بڑا چیلنج قرار دیا تھا اور ان پالیسیوں کو بدلنے کا اعادہ کیا تھا۔سیاہ فام اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور کورونا کی وباء سے نمٹنے کیلئے اقدامات کے حوالے سے انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی انتخابی مہم میں ان معاملات پر خاص توجہ دی۔ جو بائیڈن نے اپنی صدارتی مہم کے دوران عوام کو یہ باور کروانے کی پوری کوشش کی تھی کہ صدر ٹرمپ کے احمقانہ اقدامات کی وجہ سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساخت خراب ہوئی ہے جبکہ ملکی سطح پر بھی انتشار پھیلا ہے ، لہٰذا امریکہ کے بارے میں جو تاثر صدر ٹرمپ کی صدارت میں بن گیا ہے اسے ٹھیک کرنے اور دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے آمرانہ طرز عمل کو روکنے کی ضرورت ہے ۔

جوبائیڈن کے انتخابی منشور کے اہم نکات میں اعلیٰ تعلیم کے اخراجات میں کمی اور مستحق طلباء کیلئے مالی معاونت، امریکی عوام کیلئے صحت کی بہتر سہولیات بحال کرنا، روزگار کے مواقعے بڑھانا، نسلی امتیاز کو ختم کرنا، معذور افراد کے لیے مساوات، امیگریشن پرعائد پابندیوں کا خاتمہ، ملک کو بندوق کلچر سے پاک کرنا، محفوظ مستقبل کیلئے آلودگی سے پاک توانائی کا حصول، نگہداشت اور تعلیم کیلئے افرادی قوت کی تشکیل اور ٹرانس جنڈر کے لیے مساوات سرفہرست ہیں۔ جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کو اپنی ترجیحات میں رکھیں گے اور پیرس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے جو اُن بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہے جن سے صدر ٹرمپ نکل چکے ہیں۔ جو بائیڈن صدارت کے پہلے سو دنوں میں تارکین وطن کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی تمام پالیسیوں کو ختم کرنے ، امریکا میں پناہ کی درخواستوں پر پابندی اٹھانے اور غیر قانونی تارکین وطن بچوں کو امریکا میں رہنے کی اجازت دینے کا بھی وعدہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے انتخابی مہم میں ماحول دوست توانائی کے منصوبوں پر دو کھرب ، امریکا میں مصنوعات کی تیاری پر چار سو ارب، اور سروسز، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا پلان دیا تھا۔ جو بائیڈن نے قید و بند اور سزاؤں میں کمی، موت کی سزا پر پابندی، اور چرس کے استعمال کے جرم میں قید افراد کی سزا معاف کرنے کے لیے بیس ارب ڈالر کی لاگت سے ایک پروگرام شروع کرنے کا اعادہ بھی کیا تھا۔نیز امریکا کو عالمی تنہائی سے نکالنا، نیٹو کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا اور چین پر کنٹرول پانے کے لیے جمہوری ممالک کا اتحاد بنانا بھی جوبائیڈن کے منشور میں شامل تھا۔

تحریر: احمد ندیم / مہروز علی خان