تازہ ترین
  • بریکنگ :- چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
  • بریکنگ :- منی بجٹ تیارہوچکاہے، حکومت کہےگی توپیش کردیں گے،چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- سیلز ٹیکس کی چھوٹ واپس لی جارہی ہے ، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- لگژری اشیاء کی درآمدات پر ٹیکس لگائے جائیں گے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس کی سفارش ہے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقراررہےگی، چیئرمین ایف بی آر

پیسہ اور لالچ کے باوجود سینیٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے: وزیراعظم

Published On 02 March,2021 12:31 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم نے کہا ہے کہ پیسہ اور لالچ کے باوجود سینیٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے، ہمارے ارکان سے رابطے ہو رہے ہیں مگر ہم متحد ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سے وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے ملاقات کی، جس میں سینیٹ انتخابات سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ حفیظ شیخ نے حکومتی و اتحادی ارکان سے ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سینیٹ الیکشن جیتنے کیلئے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے، اسی لیے شفاف انتخابات کیلئے اوپن ووٹنگ کا حامی تھا۔

عمران خان سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے بھی ملاقات کی، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل حل کریں گے، پہلی بار پسماندہ علاقوں کو زیادہ ترقیاتی منصوبے دیئے جا رہے ہیں، ہماری حکومت کی ترجیح عام آدمی اور پسماندہ علاقے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم نے حکومتی اور اتحادی ارکان اسمبلی کو آج ظہرانے پر بلا لیا۔ ارکان اسمبلی کو وزیراعظم ہاؤس میں ظہرانہ دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اراکین کو سینیٹ پولنگ ڈے پر حاضری یقینی کی ہدایت کی جائے گی۔ وزیراعظم نے ارکان کو ظہرانے میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

 یاد رہے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اپنی 157 نشستیں ہیں، اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی اور بی اے پی کی 5، 5 جی ڈی اے کی 3، شیخ رشید کی آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی 1، 1 نشست جبکہ 1 آزاد امیدوا اسلم بھوتانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن کی 83، پیپلزپارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، اے این پی اور جماعت اسلامی کی 1،1 نشست جبکہ 3 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین کی تعداد 161 بن جاتی ہے۔ یوں وفاق کی جنرل نشست پر اپوزیشن کو جیتنے کے لئے حکومتی اتحاد میں سے 10 ووٹ توڑنے ہوں گے۔

اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 341 اراکین پر مشتمل ہے، اگر تمام ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو جیتنے والے امیدوار کو 171 ووٹ درکارہوں گے۔ اگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا۔