تازہ ترین
  • بریکنگ :- بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت ہیلی کاپٹرحادثےمیں ہلاک
  • بریکنگ :- بھارتی فضائیہ نےبپن راوت کی ہلاکت کی تصدیق کردی
  • بریکنگ :- بپن راوت کی اہلیہ اوردیگر11افرادبھی ہلاک،بھارتی فضائیہ
  • بریکنگ :- گروپ کیپٹن ورن سنگھ زخمی،اسپتال منتقل،بھارتی فضائیہ
  • بریکنگ :- جنرل بپن راوت پہلےبھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے،بھارتی میڈیا

پاک فضائیہ سے متعلق افغان نائب صدر کے الزامات بے بنیاد ہیں: ترجمان پاک فوج

Published On 17 July,2021 04:31 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں کارروائی کے حوالے سے پاک فضائیہ سے متعلق افغان نائب صدر کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ کسی اور کی سر زمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے اپنا کردارسنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ افغانستان میں اگر کشیدگی ہوتی ہے تو اس کا اثر پاکستان پر ہو گا۔ پر امن افغانستان کا اثر بھی پاکستان پر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن افغان کی صورتحال پر منحصر ہے، افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو پاکستان میں دہشتگردوں اور سلیپر سیل کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے، دہشتگرد تنظیمیں آپس میں اتحاد کر سکتی ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن عمل میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، ہم افغانستان میں امن کے ضامن نہیں، یہ فیصلہ افغان فریقوں نے کرنا ہے، مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے لیے ہم نے بہت تیاری کی ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ویژن کے مطابق بھرپور کام کر رہے ہیں، مغربی بارڈر پر باڑ کا کام تیزی سے جاری ہے، سینکڑوں پوسٹیں تعمیر کی گئی ہیں۔ جدید بائیو سسٹم کی تنصیب کی گئی ہے۔ غیر قانونی کراسنگ پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے، ایف سی کی استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے، بلوچستان اور سابقہ قبائلی علاقوں میں پولیس اور لیویز اہلکاروں کو پاک فوج نے تربیت دی ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان افغان امن عمل کا سہولت کار ہے، ضامن نہیں: ترجمان پاک فوج

انہوں نے کہا کہ خطے کا دارو مدار افغانستان میں امن عمل سے ہے، بلوچستان میں شدت پسندوں گروپوں کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ بلوچستان میں دہشتگرد دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں، ملک و قوم کے لیے سکیورٹی کے اقدامات کیے ہیں۔ پر امن افغانستان کا بھی سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا۔ افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے، ہم اپنی قربانیوں کو کسی صورتحال رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ مستقبل میں پیدا ہونے والے واقعات کی تیاری پہلی ہی کر لی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی کیخلاف طویل جنگ لڑی ہے، پاک افغان بارڈر پر 90 فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے، ہم نے نہایت کمپری ہینسو سسٹم بنایا ہے، پاک ایران سرحد پر بھی فیسنگ ہو رہی ہے، ملک و قوم کے لیے سکیورٹی کے اقدامات کیے ہوئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا تعلق افغانستان کی صورتحال سے ہے، پاکستان میں کوئی آرگنائزڈدہشت گردوں کا انفراسٹرکچرنہیں، دہشت گردافغانستان میں بیٹھے ہیں، ان کو بھارت کی سپورٹ حاصل ہے، افواج پاکستان ملک دشمن عناصرکی سرکوبی کے لیے ہرطرح تیارہے، ملک دشمنوں کوکسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمارے جوانوں کی بھی شہادتیں ہوئیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت کا افغانستان میں عمل دخل بہت زیادہ ہے، وہاں پر بلین ڈالرز سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، تاکہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکیں۔ وہاں انکی اربوں ڈالرز کی سرمایہ ڈوب رہی ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ پریشان ہیں۔ نومبر 2020ء کو بھارت کیخلاف ایک ڈوزیئر بنایا تھا جسے پاکستان نے عالمی دنیا کو دیا تھا۔ جس میں تمام ثبوت موجود ہیں کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان نائب صدر امر اللہ صالح کے پاک فضائیہ سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور دفتر خارجہ نے اس پر وضاحت دے دی ہے۔ اس طرح کے کوئی اقدامات نہیں ہو رہے۔ پاک ایئر فورس نے کوئی اس طرح کی تیاری کی ، فضائیہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کیلئے کام کرتی ہے۔

ضلع کرم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اغواء ہونے والے 10 مزدوروں کو دہشتگردوں نے چھوڑ دیا تھا، ایک کی ڈیڈ باڈی ملی تھی، گزشتہ ہفتے کے دوران آپریشن کے دوران ہم نے باقی مزدوروں کو بازیاب کرا لیا تھا۔ پاک فوج کے جوانوں عبد الباسط اور حضرت بلال کی شہادت ہوئی تھی۔ باقی لوگوں کی بازیابی کے لیے آپریشن جاری ہے۔