تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم سےبحرین کےولی عہدکاٹیلیفونک رابطہ
  • بریکنگ :- بحرین کےولی عہدکی لاہوردھماکےکی مذمت
  • بریکنگ :- جاں بحق افرادکےورثاسےاظہارتعزیت،زخمیوں کی جلدصحتیابی کی دعا
  • بریکنگ :- بحرین کےولی عہدکاپاکستانی عوام اورقیادت سےاظہاریکجہتی
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کااظہاریکجہتی پربحرین کےولی عہدکاشکریہ
  • بریکنگ :- پاکستان دہشتگردی کےخلاف جنگ جاری رکھےگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں کادوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپربھی تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- دونوں ممالک کاباہمی مفادکےمعاملات میں علاقائی و عالمی فورمزپرروابط پراتفاق

پاکستان کومیڈیا وارکا سامنا، پی ٹی ایم ریاست مخالف ٹرینڈ چلانےمیں ملوث:فوادچودھری

Published On 11 August,2021 05:52 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے دو سالہ ڈیٹا سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان مخالف سارے ٹرینڈز کو پی ٹی ایم نے شروع کیا، اسے بھارت سے سپورٹ مل رہی تھی۔ پی ٹی ایم نے ریاست مخالف 150 ٹرینڈز چلائے۔

اسلام آباد میں مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپگنڈا کیا جاتا ہے، ان سوشل میڈیا ٹرینڈز کو بھارت نے لیڈ کیا۔ پاکستان میں سب سے بڑے پلیئر پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اوران کے ورکرز ہیں۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ڈس انفولیب کے مطابق 845 ویب سائٹس پاکستان کیخلاف استعمال کی گئیں۔ پی ٹی ایم نے شروعات کی اور حمایت بھارت سے ملی۔ کریمہ بلوچ کی ہلاکت ٹاپ ٹرینڈ رہی حالانکہ وہ کینیڈا کی شہری تھیں، ان کی موت طبعی تھی۔ پی ٹی ایم نے 20 ہزار ٹویٹ کیے کہ ریاست نے کریمہ بلوچ کو قتل کیا۔ اس کے علاوہ زلفی بخاری کے اسرائیل دورے سے متعلق ٹرینڈ چلایا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ افغانستان میں بیس سال کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہے۔ افغانستان میں طالبان کی جنگ جاری ہے لیکن پاکستان کے خلاف افغان اور بھارت کے اکاؤنٹس استعمال ہو رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بہت بڑی میڈیا وارکا سامنا ہے۔ جعلی خبروں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹی ایل پی کے بہت زیادہ ٹویٹس کو بھارت سے بہت زیادہ سپورٹ ملی۔ پاکستان میں ہر طرح کے فساد پھیلانے میں باہر کے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے چار لاکھ ٹویٹس کا بہت بڑا حصہ بھارت کے شہر احمد آباد سے تھا۔ نور مقدم کیس میں سوشل میڈیا پر پوری کمپین چلائی گئی کہ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہے۔