تازہ ترین
  • بریکنگ :- کراچی:ایم کیوایم کارکنوں کا وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا
  • بریکنگ :- کراچی:پولیس کی ایم کیوایم کارکنوں پرشیلنگ،لاٹھی چارج
  • بریکنگ :- کراچی:پولیس نےمظاہرین کوپیچھےدھکیل دیا
  • بریکنگ :- کراچی:پولیس کا لاٹھی چارج ،متعدد کارکن زخمی
  • بریکنگ :- کراچی:مشتعل مظاہرین کا پولیس پر پتھراؤ
  • بریکنگ :- پولیس نےایم کیوایم کےبیشترکارکنوں کوحراست میں لےلیا
  • بریکنگ :- کراچی:پولیس نےوزیراعلیٰ ہاؤس کےمرکزی گیٹ کوخالی کرا لیا

افغانستان کا مسئلہ سب کو مل کر حل کرنا ہوگا: وزیراعظم عمران خان

Published On 17 September,2021 11:57 am

دوشنبے: (دنیا نیوز) وزیراعظم نے کہا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ سب کو مل کر حل کرنا ہوگا، اب افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کا وقت ہے، ہماری معیشت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصان پہنچا، پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

 شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے وزیراعظم نے عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر امن افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان سمجھتا ہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں، افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی، افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو مختلف بحران ایک ساتھ جنم لیں گے، افغانستان کو انسانی بحران، خوراک، بنیادی اشیا و دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔

 وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیریو این قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، آزاد خود مختار فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، پوری دنیا کی معیشت کورونا سے متاثر ہوئی، پاکستان دنیا کیساتھ مل کر انسداد کورونا کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، تجارت، سرمایہ کاری، روابط کے فروغ کیلئے ایس سی او اہم فورم ہے۔

عمران خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے بڑا چیلنج ہے، ہم نے بہتر ماحول کے فروغ کیلئے شجرکاری مہم شروع کی، ہم نے ملک کے ہر اس حصے میں پودے لگائے جہاں سبزہ نہیں تھا، شجرکاری مہم کو دنیا کے مختلف ممالک میں سراہا گیا۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ وزیراعظم بعد میں تاجکستان کے صدر سے بھی ملاقات کریں گے، افغانستان کی موجودہ صورتحال میں تاجکستان کا کردار اہم ہے، وزیراعظم کی خواہش ہے کہ تاجکستان کے ساتھ مل کر افغانستان کے مختلف گروپوں کو متحد کرنے میں کردار ادا کیا جائے۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پاکستان دنیا کو باور کروائے گا کہ افغانیوں کے ساتھ تعاون ضروری ہے، دنیا افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے، افغانستان میں 40 سال بعد امن کا موقع ملا ہے، افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے تاکہ وہاں استحکام آسکے۔