تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اتحادیوں کااجلاس
  • بریکنگ :- فوری الیکشن کی تاریخ دینےکاعمران خان کامطالبہ مسترد،ذرائع
  • بریکنگ :- حکومت 2023 تک اپنی مدت پورےکرےگی،تمام جماعتوں کامتفقہ فیصلہ
  • بریکنگ :- تمام اتحادی جماعتوں نےوزیراعظم کےفیصلےکی توثیق کردی،ذرائع
  • بریکنگ :- اتحادیوں کاالیکشن سےقبل اصلاحات کاعمل جلدمکمل کرنےپرزور،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعظم،اتحادیوں کامعیشت کی بحالی کیلئےفوری اقدامات کرنےکافیصلہ،ذرائع
  • بریکنگ :- اتحادیوں کی سیاسی بحران،معاشی استحکام کیلئےمکمل تعاون کی یقین دہانی
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےروپےکی قدرمیں اضافےودیگرمعاشی امورپراعتمادمیں لیا
  • بریکنگ :- شرکانےعمران خان کی 4سالہ کارکردگی کی حقیقت عوام کےسامنےلانےپرزوردیا،ذرائع

عمران خان کا خطاب عوام کے لئے مزید تباہی کا اعلان تھا: شہباز شریف

Published On 03 November,2021 10:18 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج کا عمران خان کا خطاب عوام کے لئے مزید تباہی کا اعلان تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کاقوم سے خطاب عوام کے لئے مزید تباہی کا اعلان تھا۔ یہ تقریر نااہلی، بے بسی اور انتظامی طورپر مکمل مفلوج ہونے کا اعتراف تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا بیان ایسے شخص کی مانند تھا جو ہر چیز پر اختیار کھو چکا ہو۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی حکومت قوم کے لئے وبال جان بن چکی ہے۔

اس سے قبل ٹویٹر پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان کا پیکیج مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے دعوی کیا کہ آٹا، گھی اور دالوں پر 30 فیصد رعایت سے صرف 6 ماہ کے لئے کچھ خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔

بلاول نے ٹویٹر پر لکھا کہ تین سال کے دوران گھی کی قیمت میں 108 فیصد، آٹے میں 50 فیصد اور گیس میں 300 فیصد اضافہ ہوا۔ تاریخی مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کا سامنا کرنے والے 20 کروڑ لوگوں کے لیے 30 فیصد رعایت بہت کم ہے۔

دوسری طرف اپنے ایک بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ عوام کو عالمی امداد سے ملنے والا فنڈز نہیں ملا، عوام کب تک برداشت کریں گے، گلگت سے کراچی تک عوام کا نعرہ ہے کہ پیٹ پر ڈاکا نامنظور۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان جہاں جاتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں اور جو پیسہ مسلم اُمہ کے ممالک یا آئی ایم ایف سے آئے، کسی کو نہیں پتہ وہ کہاں خرچ ہوتا ہے، بدقسمتی سے پاکستان کو بھکاری بنانے والے عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ آئی ایم ایف جانے کے بجائے خودکشی کرلیں گے، 50 لاکھ گھر بنانے کا دعوی کرکے اقتدار میں آنے والے عمران خان نے کراچی سے کشمیر تک تجاوزات کے نام پر عام آدمی کے گھر گرانے کی کوشش کی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام تکلیف میں ہیں اور جیالے عوام کو تکلیف میں دیکھ کر چین سے نہیں بیٹھ سکتے، جب میں بجٹ کی مخالفت کررہا تھا تو عمران خان نے کہا تھا کہ معاشی ترقی کا دور شروع ہوچکا، وہ معاشی ترقی کہاں ہے؟ پی ٹی آئی کو نہ معیشت کا پتہ ہے اور نہ ہی سیاست اور خارجہ معاملات کا کوئی علم ہے۔