تازہ ترین
  • بریکنگ :- لاہور:وزیراعظم کی نجی اسپتال میں فضل الرحمان کی عیادت،گلدستہ پیش کیا
  • بریکنگ :- وزیراعظم کافضل الرحمان کی صحتیابی کےلیےنیک خواہشات کا اظہار
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی اسپتال انتظامیہ کوعلاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت

حکومت بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے: شاہ محمود

Published On 11 May,2022 05:51 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سابق وفاقی وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت نے ہندوستان کے ساتھ تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیاہے، حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔

شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علم میں آیا ہے شہباز شریف کی حکومت نے ہندوستان کے ساتھ تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیاہے، ہندوستان کی حکومت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برعکس یکطرفہ اقدامات کیے تھے، سننے میں آیا ہے سمری کے ذریعے وزیراعظم نے انڈیا میں پاکستانی سفارت میں 15 افسران کی تعیناتی کی جا رہی ہے، ہم نے اس وقت کابینہ میں بحث کے بعد بھارت سے تجارتی بحالی کی مخالفت کی تھی، دفتر خارجہ میں بھی میں نے واضح موقف اپنایا تھا، 5 اگست 2019 میں اقوام متحدہ کی قرادادوں کے منافی بھارت نے کشمیر میں اقدام اٹھایا ہے، ہندوستان میں ہمارا سفارتخانہ 50 فیصد سٹاف کے ساتھ کام کررہا ہے، حکومت نے 15 کے قریب ٹریڈ آفیسرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، دہلی میں بھی ٹریڈ آفیسر تعینات کرنے فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ہندوستان کے ساتھ تجارت کو شروع کیا جاسکے۔ یہ بہت بڑا فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان حکومت میں کابینہ میں تجویز آئی تھی بھارت کیساتھ تجارت کو کھولا جائے، اس فیصلے سے فائدہ بھی ہونا تھا، کابینہ نے اور میں نے بھی فیصلے کی مخالفت کی، وہ پارٹی جس کی بنیاد ہی کشمیر کاز سے ہوئی، بلاول بھٹو بھی اس فیصلے پر خاموش ہیں، کیا آپ نے آزادکشمیر حکومت سے اس فیصلے پر رائے لی ہے، آپ نے کشمیرمیں ظلم سہتے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے، اس پر آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھی ردعمل آئے گا، اگر بھارت نے کشمیرمیں ظلم کم کیا ہوتا تو پھر اور بات ہے، کیا وہاں پر کشمیر کا سٹیٹس بحال کیا گیا ہے؟ نہیں، کیا ہندوستان نے وہاں جبر بند کیا گیا ہے؟ نہیں، اگر نہیں تو پھر اس فیصلے کو واپس ہونا چاہئے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے مسئلہ فلسطین، مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنایا تھا، گندم کی کٹائی تقریبا مکمل ہو چکی ہے،اعدادوشمارکے مطابق کھپت، پیداوارمیں 3 ملین ٹن کا فرق ہے، کیا حکومت نے 3 ملین ٹن گندم کا بندوبست کیا ہے؟ اگرحکومت نے گندم کا بندوبست نہیں کیا توبحران آئے گا، اگر گندم باہرسے منگوائیں گے تو 600 روپے من کا گیپ ہو گا، ہم نے روس کے ساتھ گندم کا معاملہ اٹھایا، روس 2 ملین ٹن ڈسکاؤنٹ ریٹ پردینے کے لیے تیارتھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پانی کا اس وقت سنگین بحران ہے، سندھ، بلوچستان،جنوبی پنجاب کا کسان، کاشت کارسراپا احتجاج ہیں، بھارت دریا چناب پر نیا پراجیکٹ بنا رہا ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے، کیا وزیرخارجہ بلاول نے کوئی نوٹس لیا ہے؟ ان ایشوز کو کون دیکھے گا، بلاول امریکا جارہے ہیں کیا ورلڈبینک کے صدرکے ساتھ بھارتی خلاف ورزیوں، پانی کا معاملہ اٹھائیں گے؟ توقع کرتا ہوں بلاول امریکی وزیرخارجہ کو ڈوزیئر تھما کر کشمیریوں کی ترجمانی کریں گے، قبلہ اول پرنہتے نمازیوں پر گولیاں چلائی گئیں، بلاول خاموش کیوں ہے؟ مسئلہ فلسطین،مسئلہ کشمیرپرہماری خارجہ پالیسی میں تسلسل رہا ہے، بلاول بھٹو کس سے خائف اوراس مسئلے پرکیوں خاموش ہیں؟