روزہ کے شرعی مسائل!

Published On 28 February,2025 03:46 pm

لاہور: (ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان) روزہ کا شرعی معنی یہ ہے کہ جوشخص روزہ رکھنے کا اہل ہو وہ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک عبادت کی نیت سے کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات کو ترک کر دے (فتاویٰ عالمگیری، ج1، ص 194)۔

علامہ علاؤالدین حصکفیؒ نے لکھا ہے کہ روزہ کی اہلیت کیلئے مسلمان اور حیض و نفاس سے پاک ہونا ضروری ہے، عقل، بلوغ اور صحت روزے کی اہلیت کیلئے شرط نہیں، کیونکہ بچہ، مجنون اور بیمار کا روزہ بھی صحیح ہے (درمختار علی ہامش ردالمحتار، ج2، ص 110)، روزہ کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں، صوم کا لغوی معنی رکنے کے ہیں، شرع کی رو سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے رک جانے کا نام روزہ ہے۔

وہ اسباب جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا
علامہ علاؤ الدین حصکفیؒ حنفی لکھتے ہیں : اگر روزہ دار بھولے سے کھا لے یا پی لے یا جماع کرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اگر روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکھی یا دھواں داخل ہو خواہ اس کو روزہ یاد ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، تیل یا سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ ان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو، بوسہ لینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بشرطیکہ اس سے انزال نہ ہو، احتلام سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، کلی کرنے کے بعد جو تری منہ میں رہ گئی اس کو نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، کان میں پانی داخل ہونے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، اگر دانتوں کے درمیان سے خون نکلا اور اس کو نگل لیا تو اگر خون غالب تھا تو روزہ ٹوٹ گیا ورنہ نہیں، اگر ناک (رینٹ) کو اندر کھینچ لیا اور وہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، کسی چیز کے چکھنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔(ردالمحتار،ج2، ص114)

روزہ توڑنے والے اسباب
علامہ علاؤالدین حصکفیؒ لکھتے ہیں اگر رات سمجھ کر سحری کی اور صبح ہو چکی تھی یا غروب آفتاب سمجھ کر روزہ افطار کیا اور آفتاب غروب نہیں ہوا تھا تو روزہ ٹوٹ گیا، اس پر صرف قضاء ہے، کفارہ نہیں ہے، اگر کوئی شخص رمضان کے روزہ میں عمداً جماع کرے یا عمداً دوا یا غذا کھائے یا پئے تو ان تمام صورتوں میں قضا اور کفارہ ہے۔

اگر ازخود قے آئے اور وہ اس کو واپس حلق میں نہ لوٹائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، خواہ قے منہ بھر کر آئے یا منہ بھر کر نہ آئے، اگر خودبخود واپس حلق میں چلی جائے پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، اگر عمداً قے لوٹائی تو روزہ ٹوٹ جائے گا بشرطیکہ منہ بھر کر قے آئی ہو، اگر جان بوجھ کر خود قے کی تو اگر منہ بھر کر قے کی ہے تو اجماعاً روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس میں صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہے (درمختار علی ھامش رد المختار، ج2 ، ص 115)

روزہ کی حالت میں مکروہ چیزیں
روزہ میں کسی چیز کو بلاعذر چکھنا مکروہ ہے، دنداسہ چبانا مکروہ ہے، بوسہ لینا اور معانقہ کرنا مکروہ ہے، مونچھوں پر تیل لگانا اور سرمہ لگانا مکروہ نہیں ہے، مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے خواہ شام کے وقت کی جائے۔(درمختار علی ھامش رد المختار)

روزہ کی حالت میں انجکشن لگوانا
علامہ غلام رسول سعیدیؒ لکھتے ہیں: تحقیق یہ ہے کہ انجکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قدیم فقہاء کے دور میں انسانی جسم کی اور اس کے تمام اعضاء کی مکمل تحقیق نہیں ہوئی تھی اور ان کے نظریات محض مفروضات پر مبنی تھے، انھوں نے انسان کے جسم کا مکمل مشاہدہ اور تجزیہ نہیں کیا تھا اور اب تحقیق اور تجربہ سے ان کے کئی نظریات غلط ثابت ہو چکے ہیں، ان کا مفروضہ تھا کہ دوا یا غذا معدہ میں پہنچ جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

جب ہم منہ کے ذریعہ دوا کھاتے ہیں تو معدہ کے ہضم کرنے کے بعد وہ دوا خون میں پہنچ جاتی ہے، جب تک وہ دوا خون میں نہ مل جائے اس کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا، اب میڈیکل سائنس نے ترقی کر لی ہے اور انجکشن کے ذریعے دوا کو براہ راست خون میں پہنچا دیا جاتا ہے، بعض اوقات معدہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور منہ سے دوا کھانے کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

بعض دفعہ اس قدر الٹیاں آتی ہیں کہ جو دوا کھاؤ وہ فوراً الٹی کے ذریعہ نکل جاتی ہے پہلے اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں تھا، لیکن اب جب معدہ کام نہ کرے یا کسی چیز کو قبول نہ کرے یا دوا کا اثر جلدی مطلوب ہو تو دوا کو انجکشن کے ذریعہ براہ راست خون میں پہنچا دیا جاتا ہے، لہٰذا منہ کے ذریعہ دوا کھانے سے جو فائدہ مطلوب ہوتا ہے وہ انجکشن کے ذریعہ حاصل ہو جاتا ہے، اس لئے جس طرح دوا کھانے سے روزہ ٹوٹتا ہے اسی طرح انجکشن لگوانے سے بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔

بعض علماء یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ پھر مچھر یا بھڑ کے ڈنگ لگانے سے روزہ کیوں نہیں ٹوٹتا، اس کا جواب یہ کہ روزہ ٹوٹنے کا مدار اس پر ہے کہ انسان اپنے علم اور اختیار سے کوئی دوا یا غذا جسم میں پہنچائے اور مچھر یا بھڑ کے کاٹنے میں انسان کا علم اور اختیار نہیں ہے، ثانیاً ان کے ڈنک سے جو زہر جسم میں پہنچتا ہے وہ دوا یا غذا نہیں ہے، نہ اس میں جسم کی منفعت ہے بلکہ اس سے جسم کو ضرر لاحق ہوتا ہے، دوا یا گلوکوز کا انجکشن علم اور ارادہ سے لگوائے جاتے ہیں ان سے احتراز ممکن ہے اوراس میں بدن کی اصلاح اورتقویت ہے اس لئے ان کے لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس میں صرف قضا ہے کفارہ نہیں ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ تشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ کیا روٹی کا ٹکڑا ہے؟ میں آپﷺ کے پاس روٹی کا ایک ٹکڑا لے کر آئی، آپﷺ نے اسے منہ میں رکھ کر فرمایا:اے عائشہؓ! بتاؤ اس سے کوئی چیز میرے پیٹ میں گئی؟ یہی معاملہ روزہ دار کے بوسہ دینے کا ہے، روزہ صرف کسی چیز کے داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے خارج ہونے سے نہیں ٹوٹتا‘‘(صحیح بخاری، ج1، ص260 )

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں: وضو (ٹوٹنے ) کا تعلق ان چیزوں سے ہے جو خارج ہوں اور روزہ (ٹوٹنے) کا تعلق ان چیزوں سے ہے جو داخل ہوں (مصنف عبدالرزاق، ج1، ص170)، امام ترمذیؒ روایت کرتے ہیں: حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس آیا، اس نے عرض کیا میری آنکھ میں تکلیف ہے، آیا میں روزہ میں سرمہ لگا سکتا ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں (جامع ترمذی،ص128)

وہ امور جن سے صرف قضا لازم ہوتی ہے
(1) کسی نے زبردستی منہ میں کوئی چیز ڈال دی اور وہ حلق سے اتر گئی، (2) روزہ یاد تھا مگر کلی کرتے وقت بلا قصد حلق میں پانی اتر گیا، (3) قے آئی اور قصداً حلق میں لوٹا دی یا قصداً منہ بھر کے قے کر ڈالی روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی بشرطیکہ دونوں صورتوں میں قے منہ بھر کر ہو اور روزہ دار کو اپنا روزہ یاد ہو، اگر روزہ یاد نہیں ہے تو ان تمام صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، (4) کنکری یاگٹھلی یا مٹی یا کاغذ کا ٹکڑا قصداً نگل لی۔ (5) دانتوں میں رہ جانے والی چیز کو زبان سے نکال کر نگل لیا جبکہ وہ چنے کے دانے کے برابر ہو اور اگر منہ سے نکال کر پھر نگل لیا تو چاہے چنے سے کم ہو تب بھی روزہ ٹوٹ گیا۔

(6) دانتوں سے نکلے ہوئے خون کو نگل لینا جبکہ خون تھوک پر غالب ہو تو روزہ ٹوٹ گیا اور اگر خون تھوک کی مقدار سے کم ہوگا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، (7) بھولے سے کچھ کھا پی لینے کے بعد یہ سمجھنا کہ روزہ ٹوٹ گیا پھر قصداً کھا لیں، (8) کسی کی آنکھ دیر سے کھلی اور یہ سمجھ کر ابھی سحری کا وقت باقی ہے، کچھ کھا پی لیا پھر معلوم ہوا کہ صبح ہو چکی تھی، (9) رمضان المبارک کے سوا اور دنوں میں کوئی روزہ قصداً توڑ ڈالنا، (10) آسمان پر بادل یا غبار کے چھائے ہونے کی وجہ سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا روزہ افطار کر لیا حالانکہ ابھی دن باقی تھا، ان تمام مندرجہ بالا صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔

مریض کے روزہ قضا کرنا
علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں جو شخص تندرست ہو اور روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کو بیمار پڑنے کا خدشہ ہو، وہ اس مریض کی طرح ہے جس کو روزہ رکھنے کی وجہ سے مرض کے بڑھنے کا خدشہ ہو، (المغنی ، ج 3، ص42)، علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم نے کہا: جب یہ خوف ہو کہ اس کی آنکھ میں درد زیادہ ہوگا یا بخار زیادہ ہو جائے گا تو روزہ نہ رکھے۔ (احکام القرآن، ج 1، ص، 174 )

علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں: مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی کو غلبہ ظن سے اپنی جان یا اپنے بچے کی جان کا خوف ہو یا مرض بڑھنے کا خوف ہو، یا تندرست آدمی کو غلبہ ظن، تجربہ، علامات یا طبیب کے بتانے سے مرض پیدا ہونے کا خوف ہو یا خادمہ کو ضعف کا خوف ہو تو ان کیلئے روزہ نہ رکھنا جائز ہے، بعد میں ان ایام کی قضاء کریں۔ (رد المختار ج2 ،ص 106-117)، جس شخص کے گردہ میں پتھری ہو یا جس کو درد گردہ کا عارضہ ہو اس کو دن میں بیس پچیس گلاس پانی پینے ہوتے ہیں وہ روزے نہ رکھے اور بیمار زائل ہونے کے بعد ان روزوں کی قضا کریں۔

روزہ کا فدیہ
علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں: جو شخص بہت بوڑھا اور روزہ رکھنے سے عاجز ہو، اسی طرح جس مریض کے مرض کے زوال کی توقع نہ ہو وہ ہر روزہ کیلئے فدیہ دیں، (رد المختار ج 2 ،ص 119)، ایک روزہ کیلئے نصف صاع یعنی دو کلو گندم یا اس کی قیمت فدیہ دے، روزہ کے فدیہ میں فقراء کا تعدد شرط نہیں ہے اور ایک فقیر کو متعدد ایام کا فدیہ دے سکتا ہے اور مہینہ کی ابتداء میں بھی دے سکتا ہے (درمختار علی ھامش رد المختار ج2، ص119)۔

روزہ توڑنے کا کفارہ
شریعت نے کفارہ کو مکلف پر دنیا و آخرت میں گناہوں کو مٹانے کیلئے واجب کیا ہے، کفارہ کا حکم عموماً روزے رکھنے، غلام آزاد کرنے، مساکین کو کھانا کھلانے یا دوماہ کے مسلسل روزہ رکھنے پر مشتمل ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے: ’’ایک شخص نے رمضان میں (دن کے وقت) اپنی بیوی سے صحبت کر لی، پھر رسول اللہﷺ سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے عرض کی : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو‘‘(صحیح مسلم:1111)

مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان صدر اسلامک ریسرچ کونسل ہیں، 30 سے زائد کتب کے مصنف ہیں، ان کے ایچ ای سی سے منظور شدہ 35 مقالے بھی شائع ہو چکے ہیں۔