خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر کردیا گیا۔
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بن گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی بزنس رولز کے تحت اپوزیشن لیڈر کی تقرری 16 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔
اپوزیشن لیڈر کا عہدہ 9 مئی کیس میں عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد خالی ہوا تھا، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود اچکزئی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپوزیشن لیڈر نامزد کیا تھا۔
قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا تو طارق فضل چودھری نے کہا کہ اجلاس میں دو دن کا وقفہ تھا ، آج ممبران کی حاضری معمول سے کم ہے، اس لئے وقفہ سوالات کو موخر کردیں، ایاز صادق نے کہا کہ آج وقفہ سوالات نہیں ہوگا، ممبران نے اتنی محنت کی ہوتی ہے،موخر نہیں کروں گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پرسوں علم میں آیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی ایک میٹنگ کے8 ہزار ڈالر ملتے ہیں، آپ نے کہا تھا جمعرات کو نوٹیفکیشن ہو جائے گا، اس پر سپیکر نے کہا کہ اجلاس کا بزنس کمیٹیوں کو بھیج کر چیمبر جاؤں گا، پھر میں آپ کو نوٹیفکیشن دوں گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دشمن ملک بھارت میں کم از کم 6گھنٹے کی اسمبلی کارروائی چلتی ہے، طارق فضل نے کہا کہ آج ممبران کی حاضری معمول سے بہت کم ہے۔
قومی اسمبلی میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس، ریلوے کی منتقلی ترمیمی آرڈیننس، قومی ٹیرف کمیشن ترمیمی بل، برآمدی ترقی فنڈ ترمیمی بل ، ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2026 ، پاکستان ٹیلی مواصلات تنظیم نو ترمیمی بل، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی بل، متبادل تنازعہ جاتی تصفیہ ترمیمی بل، علاقہ دارالحکومت اسلام آباد ملکیت و انتظام بل پیش کیے گئے۔
یہ تمام بلز وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیے۔
علاوہ ازیں سپیکر قومی اسمبلی نے 32ارکان کو اثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع نہ کرانے پر ایوان میں داخلے سے روک دیا، سپیکر نے کہا کہ اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے ارکان کو حاضری نہ لگانے دی جائے، ایک رکن ابھی بھی ایوان میں ہے وہ خود ہی چلا جائے، لسٹ موجود ہے اپنے نام دیکھ لیں۔