خلاصہ
- لاہور : (دنیا نیوز) لاہور ہائی کورٹ نے یو پی ایس کی واپسی کے تنازع پر نوجوان کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ جاری کر دیا گیا۔
عدالت نے چار سال بعد مجرم شیخ اویس کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر مجرم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء ںاجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 19 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
فیصلہ میں بتایا گیا کہ ملزم پر لاہور کے تھانہ اچھرہ میں 2020 میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، ٹرائل کورٹ نے 2022 میں ملزم کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ شریک ملزمان کو بری کردیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے پیسوں کے تنازع پر شکایت کنندہ کا یو پی ایس زبردستی رکھ لیا، شکایت کنندہ کا بیٹا یو پی ایس واپس لینے گیا تو ملزمان نے فائرنگ کرکے کہ قتل کردیا تھا جبکہ ریکارڈ کے مطابق پولیس سٹیشن وقوعہ کی جگہ سے صرف ڈھائی کلو میٹر دور تھا۔
فیصلہ میں مزید بتایا گیا پراسکیوشن کے مطابق مقتول کو ہستپال منتقل کرنے سے پہلے مقدمہ درج کیا گیا، یہ حیران کن ہے کہ ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے مقدمہ درج ہونے کے باوجود وقوعہ کے متعلق نہیں لکھا جبکہ شکایت کنندہ نے مقتول کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد پولیس کو بیان لکھوایا۔
ایف ائی آر کے مطابق وقوعہ کے تین چشمدید گواہ تھے جن میں سے ایک گواہ مقتول کو لیکر ہسپتال چلا گیا۔
فیصلہ میں سوال اٹھایا گیا کہ یہ حیران کن ہے دیگر دو گواہوں وقوع رپورٹ کرنے فوری پولیس اسٹیشن کیوں نہ گئے ؟
بادی النظر میں وقوعہ تاخیر سے پولیس کو رپورٹ کیا گیا جبکہ گواہوں کو مینج کرنے ،پراسکیوشن کی کہانی تیار کرنے کے لیے ٹائم ضائع کیا گیا، گواہوں نے بیان دیا کہ ملزمان نے یو پی ایس کی واپسی کے لیے مقتول کو فون کر کہ گھر بلایا تھا۔
ٹرائل میں کسی ایسی کال کا ریکارڈ یا رپورٹ نہیں پیش کی گئی جبکہ موجودہ کیس میں یو پی ایس ایک اہم ثبوت تھا۔ پولیس نے تفتیش کے دوران یو پی ایس ریکور ہی نہیں کیا۔
جاری کردہ فیصلہ میں مزید لکھا گیا پراسکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد عدالت ملزم کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتی ہے، ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو فوری رہا کیا جائے۔