نیب اور سندھ حکومت کا سرکاری زمین کے فراڈ کیخلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق

نیب اور سندھ حکومت کا سرکاری زمین کے فراڈ کیخلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کی سی ایم ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین نیب کا سرکاری زمین کی واپسی کے لیے مشترکہ کارروائی کا اعادہ کیا۔

مراد علی شاہ کو چیئرمین نیب نے سرکاری زمین کی بازیابی سے متعلق رپورٹ اور سندھ حکومت کو واپس دینے کی دستاوزات پیش کر دی گئیں۔

اس موقع پر بریفنگ دی گئی کہ نیب نے سرکاری زمین سے متعلق 188 مقدمات کی تحقیقات مکمل کی ہے، تفتیش کے بعد مجموعی رقبہ 4 لاکھ 61 ہزار ایکڑ سے زائد زمین قبضہ مافیہ سے واپس لی گئی ہے۔

نیب چیئرمین نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی کہ کراچی کی ایویکیو لینڈ 635 ایکڑ بازیاب کی گئی ہے، کلفٹن بلاک I اور II کی 350 ایکڑ سمندری زمین ریکور کی گئی ہے، سجاول اورٹھٹو میں 4 لاکھ ایکڑ جنگلات کی زمین بازیاب کرائی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ جامشورو میں 83 جعلی ریونیو اندراجات منسوخ کرانے کے بعد 1,040 ایکڑ زمین واگزار کرائی گئی، چیئرمین نیب نے سندھ حکومت کے کردار کی بھی تعریف کی۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ اراضی بازیابیوں کی کامیابی نیب اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان تعاون کا واضح ثبوت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عوامی اثاثوں کی واپسی پر نیب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بازیاب زمین عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے استعمال کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ نے پارکس اور تفریحی مراکز کے قیام کے لیے زمین استعمال کرنے کا اعلان کر دیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بحال شدہ سرکاری اثاثوں کی جلد از جلد منتقلی اور عوامی مفاد میں استعمال کو یقینی بنایا جائے، وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری زمین کے سے متعلق ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ کیا۔

سرکاری زمین کے تحفظ کے لیے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی گئی، ٹاسک فورس میں بورڈ آف ریونیو، نیب اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے افسران شامل ہیں۔

ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق ٹاسک فورس کے ہر پندرہ دن بعد اجلاس ہوں گے، وزیراعلیٰ سندھ نے جنگلات اور مینگرووز کی زمین سے متعلق سمریوں کی فوری منظوری کی ہدایت کر دی، وزیراعلیٰ سندھ نے مستقبل میں تجاوزات روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کا فیصلہ کیا۔