خلاصہ
- کراچی: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ یہ شہر یتیم نہیں ہے، ہم نے اپنے حصے کا قرض ادا کیا ہے اور پاکستان اس شہر کراچی کی وجہ سے چل رہا ہے، کسی کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ کراچی لاوارث ہے۔
کراچی میں مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی خیریت سے ہیں اور ٹھیک ہیں، ایم کیو ایم نے الیکشن کے دوران آرٹیکل 140 سے 8 متعلق صفحات پر مشتمل آئینی ترمیم حکومت کے سامنے رکھی اور ہم آج بھی اپنے ون پوائنٹ ایجنڈے پر قائم ہیں، ہم نے نہ کوئی وزارت مانگی اور نہ ہی کوئی ذاتی مفاد، صرف اپنی آئینی ترمیم پیش کی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم میں بھی یہی مطالبہ رکھا گیا لیکن پیپلز پارٹی نے اتفاق نہیں کیا، تاہم وزیر اعظم نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے موقع پر وعدوں کی تکمیل کی یقین دہانی کروائی، ستائیسویں ترمیم میں تمام وفاقی وزراء اور حتیٰ کہ پنجاب اسمبلی نے بھی ایم کیو ایم کی تجاویز کو اپنی قرارداد کا حصہ بنایا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی میں دو دن تک ہماری ترمیم پر بحث ہوئی، صرف پیپلز پارٹی راضی نہیں تھی، ستائیسویں آئینی ترمیم میں پاکستان کے فیلڈ مارشل کی مدت میں توسیع اور عدالتی لحاظ سے اہم فیصلے شامل تھے، مگر پیپلز پارٹی نے کسی شق کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے کراچی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں گٹروں میں گر کر بچے مر رہے ہیں جبکہ ہر دوسرے دن موبائل چھیننے کے دوران شہری قتل ہو رہے ہیں، ہم پندرہ ارب روپے لے کر شہر میں کام شروع کرنے آئے مگر جیسے ہی چھوٹے موٹے کام شروع ہوئے۔
مزید برآں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جو سندھ حکومت اٹھارہ سال میں ہمیں اون نہیں کر سکی وہ آگے کیا کرے گی، ذوالفقار علی بھٹو کے آئین میں واضح ہے کہ اگر صوبہ مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جائے تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے۔