خلاصہ
- لاہور:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر کلائمیٹ چینج اینڈ انوائرمنٹل کوآرڈینییشن ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ طاقتور بے نقاب اور کلائمیٹ کی سیاست بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں ڈاکٹر مصدق ملک کا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ کلائمیٹ چینج کیا ہے، میرے ذہن میں ایک بچے کی فوٹو آئی جس کے ہاتھ میں پھٹی ہوئی کتاب تھی،اس کا گھر بہہ چکا تھا وہ حیران آنکھوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھ رہا تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ ایک خاندان تھا جس کے پاس ایک بھینس اور چند بکریاں تھی جو سیلاب میں بہہ گئیں، اب اس خاندان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، ایک پوری نسل کو خط غربت سے نکالنے والی لکیر ساتھ ہی بہہ گئی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب میں لوگوں کی فصلیں بہہ گئی، تباہی آئی اور چلی گئی لیکن بعد میں بحالی کا کوئی راستہ نہیں تھا ، پچھلے چار سیلاب میں چھے ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں، کس جنگ میں کس دہشتگردی میں اتنے لوگ مارے گئے؟
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی دہشتگردی کسی بھی دوسری دہشتگردی سے زیادہ خطر ناک ہے،19 ہزار لوگ چار سیلابوں میں زخمی ہو چکے ہیں ، پچاس فیصد لوگوں میں بچے بھی شامل ہیں، دو کروڑ بچے سیلابوں کی وجہ سے سکول نہیں جا سکے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 1.8 بلین سکول کے دن بنتے ہیں جو ضائع ہوئے ہیں، چار چار، چھے چھے ماہ تک لوگ آباد نہیں ہو پاتے، سکول بھی بہہ جاتے ہیں، جب سکول ہی نہیں رہا تو جانا کہاں ہے؟9.8 فیصد ہماری جی ڈی پی کا حصہ ایک سیلاب میں کھو جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس تباہی کو کسی بھی زاویے سے دیکھ لیں جو لوگ ابھی تک نسل در نسل غربت سے نکل ہی نہ سکے، وہ لوگ جو کھیتی باڑی کرتے تھے ان کے پاس کچھ نہیں رہا وہ کہاں جائیں؟ اِس دہشتگردی سے متاثر ہونے والے لوگ کہاں جائیں سوال یہ ہے کہ یہ کیوں اور کیا ہو رہا یے؟
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ٹمپریچر بڑھتا ہے تو برف پگھلتی ہے جب وہ نیچے آتی ہے تو اسے راستہ نہیں ملتا پھر وہ سب کچھ بہا لے جاتی ہے، دو ممالک ہمارے بارڈر پر بیٹھے ہیں وہ دنیا کا چالیس فیصد کاربن پیدا کرتے ہیں، دنیا کے دس ممالک 70 سے 75 فیصد پیدا کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ دو ایسے ہیں جو گلیشیر کے پہلو میں بیٹھے ہیں جس وجہ سے وہ پگھل کر سیلاب بنتے ہیں، ترقی کی ایسی ہوس ہے جس وجہ سے دس ممالک دھندہ چلا رہے ہیں اور متاثر کوئی اور ہو رہا ہے ، کاربن پیدا کرنے والے دس ممالک ہی دنیا کی گرین فائنانسگ کھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں کہتے ہیں گرین کاروبار نہیں کرو گے تو تمہاری ایکسپورٹ نہیں آنے دیں گے، ہمارے پیسے آپ خود رکھ لیتے ہیں پھر کہتے کام کریں، طاقتور اب سب کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے، اسی وجہ سے کلائمیٹ کی سیاست بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ دوغلا پن بس یہاں تک محدود نہیں ہے ، ہمیں کہتے ہیں ہم کاربن جو ختم کر نے کے لیے نوبل ہتھیار بناتے ہیں ، اور جو نوبل ہتھیار بتاتے ہیں وہ قرضہ ہے اور ہمارے بجٹ کا زیادہ حصہ قرض اُتارنے میں چلا جاتا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کے قرضہ اس کا حل نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم جو پہلے قرضہ لے چکے ہوتے ہیں تعلیم و صحت کے لیے، اُس کا کہتے ہیں کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے لیے رکھ دیتے ہیں، ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں ہم 165 نمبر پر موجود ہیں، ہمیں کہتے ہیں وہاں سے پیسہ نکال کر سیلاب کے بعد مرمت کریں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے سوچا ہے حالیہ سیلاب میں شارٹ ٹرم منصوبے لائے ہیں، سیلاب میں ہماری جن چیزوں کو نقصان پہنچا ان کو تین سو دن میں ٹھیک کریں گے، اس کے بعد ہمارے پاس کو چیزیں موجود ہیں ان کو بڑھائیں گے۔
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سیوریج کا نظام بہتر کرنے کی کوشش کریں گے ،ہمارے پاس بتانے کے لیے پورا منصوبہ ہے، لانگ ٹرم میں موجودہ اور نئے ڈیمز پر کام کریں گے، ہم نے اپنی حکمت عملی کو دو چیزوں میں تقسیم کیا ہے، ایک پبلک انٹرسٹ اور دوسرا پرائیویٹ انٹرسٹ ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بچے جو پڑھ کر آ رہے ہیں انہیں نئے طریقے معلوم ہیں ، ہم اُن کے لیے پلیٹ فارم دیں گے کہ وہ آئیڈیاز لائیں ہم اس کو کیپیٹل دیں گے، دو فرمز کو ابھی تک ہم سہولت دے رہے ہیں،اگر ہمارے بڑے بڑے رہنما ٹھیک ہیں تو ایک بچہ ایک گلاس صاف پانی کیوں نہیں پی سکتا ؟ہمیں مل کر ان مسائل کا حل نکالنا ہے۔