خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) شہر لاہور میں بڑھتے ہوئے آگ لگنے کے واقعات کے باعث ملٹی سٹوری کمرشل عمارتوں کے پلانز اب ریسکیو 1122 کی کلیئرنس کے بغیر منظور نہیں ہوں گے۔
ایل ڈی اے ٹاؤن پلاننگ و آرکیٹیکچر ڈائریکٹوریٹ نے بلڈنگ پلانز کی منظوری کیلئے نئے سخت احکامات جاری کردیے ہیں، جاری کردہ احکامات کے مطابق فائر سیفٹی این او سی لازمی قرار دیدی گئی جبکہ خلاف ورزی پر منظوری نہیں ملے گی۔
احکامات میں بلند و بالا عمارتوں میں بیسمنٹ ریمپ سے متعلق فیصلہ کے مطابق بیسمنٹ کیلئے انٹری و ایگزٹ ریمپ کے تین آپشنز متعارف کرائے گئے ہیں جن میں فرنٹ سائیڈ سے سنگل یا علیحدہ انٹری ہو گی جبکہ ایگزٹ ریمپ کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
فیصلہ میں فرنٹ انٹری، ریئر یا سائیڈ سے ایگزٹ کی اجازت بھی دی گئی ہے تاہم ریئر یا سائیڈ سپیس میں بیسمنٹ ہو تو علیحدہ انٹری اور ایگزٹ ریمپ لازمی قرار دی گئی ہے۔
عمودی عمارتوں میں مکینیکل لفٹس پر واضح ہدایت جاری کی گئی ہے جس میں بیسمنٹ کیلئے مکینیکل لفٹ صرف لازمی ریمپ کے ساتھ اضافی سہولت کے طور پر منظور ہوگی جبکہ صرف لفٹ کے ذریعے بیسمنٹ رسائی کی اجازت نہیں ہوگی۔
احکامات کے مطابق ہر 100 فٹ کے فاصلے پر ایمرجنسی سیڑھیاں لازمی قرار کر دی گئی، ایمرجنسی سٹیئر کیس پلاٹ کے اوپن سائیڈ پر ہوں گے، سنٹر میں بنانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ سیڑھیاں مکمل طور پر وینٹی لیٹڈ اور براہ راست ایگزٹ کیلئے موزوں ہونی چاہئیں۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ ملٹی سٹوری کمرشل بلڈنگ پلانز ویری فکیشن کیلئے انچارج ریسکیو 1122 کو بھیجے جائیں گے، ریسکیو 1122 کی این او سی کے بغیر منظوری غیر قانونی تصور ہوگی جبکہ تمام افسران و عملے کو سکروٹنی، منظوری اور ریویژن کے دوران سختی سے عملدرآمد کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔