خلاصہ
- لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کی چودھری شوگر ملز کیس میں بطور گارنٹی جمع کرائی گئی رقم کی واپسی کےلیے دائر درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت نے نیب کو ایک ہفتے میں چودھری شوگر ملز کیس بند کرنے کے لیے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کردی ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے چودھری شوگر ملز کیس میں ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو بطور گارنٹی جمع کرائی گئی 7 کڑور رقم واپسی کی استدعا کی، نیب رپورٹ کے مطابق 2020 میں مریم نواز کے خلاف انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کیا گیا۔
فیصلہ کے متن میں لکھا گیا کہ تفتیش مکمل ہونے پر بتایا گیا کہ کیس میں کہیں کرپشن ثابت نہیں ہوئی، تفتیشی افسر نے نیب ترمیمی ایکٹ کے تحت کیس کلوز کرکے تفتیش بند کردی، نیب ترمیمی ایکٹ تفتیش بند کرنے کی رپورٹ متعلقہ عدالت میں دائر کرنے سے نہیں روکتا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے مطابق چیئرمین نیب خود سے عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے انویسٹی گیشن بند نہیں کرسکتے، یہ اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے، نیب ترمیمی ایکٹ میں واضح لکھا کہ انویسٹی گیشن بند کرنے یا واپس لینے کے لیے متعلقہ کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی سوال پر نیب کے وکیل نے اعتراف کیا نیا ایگزیکٹو بورڈ بند انویسٹی گیشن دوبارہ کھولنے کا حکم دے سکتا ہے، نیب کے بیان کے بعد ضروری ہے کہ کیس بند کرنے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کیا جائے۔
عدالت نے نیب کو ایک ہفتے میں چودھری شوگر ملز کیس بند کرنے کے لیے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کردی اور احتساب عدالت کو ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے متعدد ہدایات کےساتھ درخواست نمٹا دی۔