خلاصہ
- کراچی:(دنیا نیوز) رہنما ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت سندھ پر قابض ہے۔
شہرِ قائد میں مصطفیٰ کمال اور فاروق ستارکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین کےخلاف ایک اسمبلی نے قرارداد منظور کی، کیا سندھ پاکستان کے آئین سے متصادم قرار داد منظور کر سکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمیں فیصلہ کن موڑ پرب لایا ہے، بانیان پاکستان کی اولادوں کو فیصلہ کرنا ہے، پاکستان کے ضمیر سے جمہوریت پسندوں سے سوال کرتا ہوں، کیا پاکستان کے آئین کو چیلنج کیا گیا؟
رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی سیاست کا آغاز ادھر تم ادھر ہم سے ہوا، سو فیصد بجٹ بنا کر دینے والوں کا اختیار ایک فیصد ہے، اس طرح گھر نہیں چل سکتا، کس خوف سے قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دھمکیاں ہم نے نہیں دی تھی کہ قومی اسمبلی اجلاس میں گیا تو ٹانگیں توڑ دیں گے، ایم کیو ایم کا آج تک کوئی مطالبہ آئین سے متصادم نہیں، دھرتی ماں پاکستان ہے، پاکستان ستر کی دہائی میں حادثے، صدمے اور سانحے کا شکار ہوا۔
اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب اسمبلی نے اُردو کو قومی زبان قرار دیا تھا، ہمارے ہوتے سندھو دیش کا ہر خواب ناکام ہو گا، مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کر رکھا ہے، ریاست سے سوال ہے کہ یہ طاقت کسی اور صوبے میں ہے؟
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ کیا کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر تقسیم ہے ؟ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ قومیتیں ہیں، حکمران بھی ایسے ہونے چاہئیں تھے، کراچی کے ڈیڑھ کروڑ عوام کم گنے گئے، وزیراعظم، صدر، ریاست، عدالت سے سوال کرتا ہوں۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ جو سلوک یہاں پیش آیا ہے کہیں اور ہوا ہے، آپ ہر آواز کو غداری قرار دے دیتے ہیں، صوبہ سندھ میں دوطبقات بنائے گئے، پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کلمہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا، پاکستان کی سالمیت سب سے پہلے ہے، دھمکیوں سے معاملہ نہیں چلے گا،عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رہے گی، پیپلز پارٹی کی منافقت یہ کہ جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حامی لیکن سندھ میں مخالف ہے۔