خلاصہ
- کوہاٹ: (دنیا نیوز) کوہاٹ میں لیڈی ڈاکٹر مہوش کے قتل کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا تیسرے روز بھی احتجاج جاری ہے۔
احتجاج میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس، نرسز اور میڈیکل کالج کے طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہے جبکہ ایمرجنسی سروس کے علاوہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کی تمام سروسز بند ہیں۔
ذرائع کے مطابق کمشنر کوہاٹ معتصم باللہ نے احتجاجی ڈاکٹرز سے ملاقات کی، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد نواز اور ڈی پی او شہباز الہٰی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کمشنر نے لیڈی ڈاکٹر مہوش کے قاتل کو جلد گرفتار کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ڈاکٹرز سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے چند گھنٹوں کی مہلت مانگ لی، ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے احتجاج کے باعث ڈی ایچ کیو کی او پی ڈی سروس تیسرے روز بھی بند ہے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ مقتول لیڈی ڈاکٹر سے مریضہ کے ساتھ آئے تیمار دار کی تلخی ہوئی تھی، ڈاکٹر مہوش نے مرد تیمار دار کو لیڈی وار سے جانے کا کہا تھا تاہم مقتول نے رات 8 بجے ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد لیڈی ڈاکٹر کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مہوش کو 8 گولیاں ماری گئیں، پولیس نے ملزمان کی شناخت کر لی ہے اور گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر مہوش کو دو روز قبل ہسپتال سے گھر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا، ڈاکٹر مہوش کا تعلق ملتان سے تھا، 2007 میں ان کی کوہاٹ میں شادی ہوئی، لیڈی ڈاکٹر کے 3 بیٹے اور ایک بیٹی ہیں اور شوہر پراپرٹی کا کام کرتے ہیں۔