عدالتی انفراسٹرکچر میں موجود خلا جلد از جلد پرُ کیا جائے: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

عدالتی انفراسٹرکچر میں موجود خلا جلد از جلد پرُ کیا جائے: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اجلاس میں جوڈیشل ڈیولپمنٹ فنڈ، انڈر ڈیولپڈ ریجنز ونڈوز اور گرانٹ اِن ایڈ کے تحت جاری منصوبوں پر جامع رپورٹ پیش کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق پنجاب میں 56 بار رومز کی سولرائزیشن مکمل کرلی گئی ہے جبکہ مزید 47 بار رومز پر کام جاری ہے، صوبے میں 62 بار رومز اور عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کی جاچکی ہیں اور ان کی توسیع کا عمل بھی جاری ہے، پنجاب کے 47 جوڈیشل کمپلیکسز میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے ہیں جبکہ 32 ڈے کیئر سینٹرز اور 74 خواتین سہولت مراکز بھی قائم کیے جاچکے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق سندھ میں 65 بار رومز اور 92 عدالتوں کی سولرائزیشن جاری ہے جبکہ 37 بار رومز اور 61 عدالتوں میں ای لائبریریز کے قیام پر کام ہورہا ہے، سندھ کے 28 اضلاع اور 19 تعلقہ سطح پر خواتین سہولت مراکز کی ترقی کا عمل بھی جاری ہے۔

خیبر پختونخوا میں 51 بار رومز اور 39 عدالتوں کی سولرائزیشن مکمل کرلی گئی ہے جبکہ 66 بار رومز اور 62 عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کردی گئی ہیں۔

بلوچستان کے تمام 35 سیشن ڈویژنز میں سولرائزیشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ 35 سیشن ڈویژنز میں بینچ اور بار کے لیے ای لائبریریز بھی قائم کردی گئی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ہدایت کی کہ عدالتی انفراسٹرکچر میں باقی ماندہ خلا کی نشاندہی کرکے انہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے، عدالتی کارکردگی اور ادارہ جاتی وقار کے لیے بلا تعطل اور پائیدار توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے۔