خلاصہ
- کراچی:(دنیا نیوز) امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے عید کے بعد بہت بڑی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔
شہرِ قائد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اورنگی ٹاؤن نے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو تاریخی مینڈیٹ دیا تھا، سپریم کورٹ میں 6 یوسیز پر قبضے کے خلاف مقدمہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اورنگی ٹاؤن میں جماعت اسلامی کا ٹاؤن چیئرمین ہوتا تو باقی یوسیز کی طرح اورنگی میں بھی کام ہورہے ہوتے ، کراچی کے عوام نے جن لوگوں کو مسترد کیا انہیں عوام پر مسلط کردیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کراچی دشمن پارٹی ہے، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں نے مل کر کراچی کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیل دیا، متحدہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں ہے، رجیم چینج میں اُنہوں نے کس کو ووٹ دیا تھا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں ساڑھے تین سال اور باقی حکومتوں کے ساتھ بھی ایم کیو ایم اتحادی رہی، دو پٹے کی چپل پہننے والوں نے دبئی میں بڑے بڑے مال بنالیے لیکن اورنگی کے عوام کو کچھ نہیں دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ کراچی 42 فیصد ٹیکس 54 فیصد ریونیو جرنیٹ کرتا ہے، صوبائی حکومت اِس شہر کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں ہے، جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز میں بھی صوبائی حکومت کراچی کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں بااختیار بلدیاتی حکومت چاہیے، ہم صرف شہرِ قائد کے اختیارات کی نہیں بلکہ سندھ کے شہروں کے اختیارات کی بھی بات کرتے ہیں، پیپلز پارٹی ایک خاندان اور چند وڈیروں پر مشتمل ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے بلاول کا ویژن موئن جودڑو کی تہذیب ہے جب پوری دنیا میں لوگ آگے بڑھ رہے ہیں تو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے پانی اور بجلی سے محروم کیا ہوا ہے، اب تو اورنگی کے لوگوں کو شناخت نہیں دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں اورنگی کے لوگوں کے مسائل حل کروائے تھے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر اہلیان اورنگی ہے ساتھ مل کر نادرا کے آفس کے باپر پہنچیں،ایم کیو ایم کی دھتکارے ہوئے 21 ایم این اے جنہوں نے کراچی کے عوام کا مقدمہ نہیں لڑا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جنگ پاکستان اور نہ ہی افغانستان کے مفاد میں ہے، ان کی سرزمین اگر دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے تو نقصان ہمارا بھی ہوگا، افغان حکومت بھارت کے کہنے پر جنگ نہ کرے۔
حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس جنگ سے ہمارا کوئی فائدہ نہیں ہے، پرامن طریقے سے مسئلے کو حل کیا جائے اور آپس میں مسلمانوں کو جنگ سے روکا جائے،عید کے بعد بہت بڑی تحریک کا اعلان کیا جائے گا۔