خلاصہ
- اسلام آباد:(دنیا نیوز) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کا حکومت کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس ملکی و غیر ملکی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس کے بعد باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری ہوا۔
اعلامیہ کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اورحملوں میں شہید ہونے والے بے گناہ شہریوں اور 160 سے زائد طالبات کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
اِسی طرح اجلاس میں ایرانی سپریم لیڈر اور احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی، پرامن مظاہرین کے خلاف ریاستی تشدد اور مہلک طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
پی ٹی آئی اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں افغانستان کے ساتھ کشیدہ صورتحال پر تشویش اور قومی سلامتی اجلاس کا جائزہ بھی لیا جب کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو رسائی نہ دینا آئینی حق اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی قراردیا۔
عدالتی احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے ملاقاتیں بند کرنے پرشدید تشویش کا اظہار کیا اور عمران خان کو خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کرنا اور صحت کی صورتحال چھپانا قانون کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا، رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آج بھی عدالتی حکم کے باوجود فیملی اور وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہ ملی، یکطرفہ طبی معائنہ مسترد کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں علاج یقینی بنایا جائے۔
اعلامیہ میں مزید بتایا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حکومتی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔