کالعدم بی ایل اے عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں کیلئے بھی خطرہ بن گئی: ترک میڈیا

کالعدم بی ایل اے عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں کیلئے بھی خطرہ بن گئی: ترک میڈیا

ترک میڈیا ٹی آر ٹی ورلڈ میں شائع رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی شاہراہیں اور تجارتی راہداریاں بی ایل اے کے حملوں کے باعث خطرناک زون میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کا اصل ہدف پاکستان کا معاشی گلا گھونٹنا اور علاقائی رابطوں کو سبوتاژ کرنا ہے، ٹرینوں، شاہراہوں اور مال بردار گاڑیوں پر حملے بلوچ عوام نہیں بلکہ روزگار اور ترقی کے خلاف جنگ ہیں۔

بتایا گیا کہ امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے، مزید ممالک پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، بی ایل اے کا طرزِ عمل القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں سے مشابہ ہوتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ گوادر بندرگاہ اور بلوچستان عالمی تجارت کے اہم زمینی پوائنٹ ہیں، یہاں عدم استحکام کے بین الاقوامی اثرات مرتب ہوتے ہیں، بی ایل اے کے حملوں نے سڑکوں، ریلوے اور انفراسٹرکچر منصوبوں کو متاثر کر کے سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچایا۔

یہ بھی بتایا گیا کہ جعفر ایکسپریس حملے سمیت ریلوے نیٹ ورک پر متعدد حملوں نے بلوچستان میں ٹرین سروس بار بار معطل کروائی، گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں دہشت گردی کے تین چوتھائی واقعات بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق سی پیک، توانائی منصوبے اور تجارتی راہداریاں بی ایل اے کے حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں جس سے سیکورٹی اخراجات بڑھ رہے ہیں، بلوچستان میں امن و استحکام صرف پاکستان نہیں بلکہ چین، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور یورپی منڈیوں کے مفاد میں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بی ایل اے کی کارروائیاں عام بلوچ شہریوں کو نوکریوں، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی مواقع سے محروم کر رہی ہیں، بی ایل اے بلوچستان کو سرمایہ کاری، حکمرانی اور معاشی انضمام کے لیے ناقابلِ عمل بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

بلوچستان میں عدم استحکام کی قیمت پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ عالمی سپلائی چینز اور بین الاقوامی صارفین بھی ادا کر رہے ہیں۔