خلاصہ
- پشاور:(دنیا نیوز) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ کسی دوسرے صوبے کو درپیش نہیں۔
اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا نے مالی سال کے دوران 129 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم صوبے نے 150 ارب روپے سے زائد ریونیو اکٹھا کیا اور اس دوران کوئی نیا ٹیکس بھی عائد نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اپنا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی جب کہ خیبرپختونخوا غیر ضروری اخراجات سے گریز کرتے ہوئے مالی نظم و ضبط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی شرح نمو کم ہو چکی ہے، زراعت کی گروتھ منفی ہو گئی ہے، کسان اور صنعت کار مشکلات کا شکار ہیں اور قومی قرضہ 42 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈالر کی قدر کو مصنوعی طور پر قابو میں رکھا گیا ہے، جس کے منفی اثرات معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں جب کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے ملک کو سنگین معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔