پلاٹ منسوخی کیس: عدالت کی چیئرمین سی ڈی اے کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت

پلاٹ منسوخی کیس: عدالت کی چیئرمین سی ڈی اے کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بزرگ شہری محمد مرتضیٰ کی درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر عادل عزیز قاضی اور دیگر جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے ممبر سٹیٹ عدالت پیش ہوئے۔

طلبی کے باوجود چیئرمین سی ڈی اے پیش نہ ہونے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ چیئرمین سی ڈی اے کو بلایا تھا وہ کہاں ہیں، جس پر ممبر سٹیٹ نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نہیں آسکے میں ممبر سٹیٹ ان کی جانب سے آیا ہوں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے کو ذاتی حیثیت میں بلایا گیا تھا اور وہ نہیں آئے، چیئرمین سی ڈی اے کو کہیں وہ وزیر اعظم ہاؤس ہیں یا جہاں بھی فوری طور پر عدالت پیش ہوں، چیئرمین سی ڈی اے جب تک پیش نہیں ہوتے معاملہ حل نہیں ہوگا، چیئرمین سی ڈی اے اگر پیش نہیں ہوتے تو ہمیں بلانا بھی آتا ہے، عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کے پیش ہونے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔

بعد ازاں دوبارہ سماعت کے دوران عدلاتی طلبی پر چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف عدالت پیش ہوگئے، جسٹس انعام امین منہاس نے چیئرمین سی ڈی اے سے کہا کہ آپ کو بلایا ممبر سٹیٹ عدالت پیش ہوا، کیا وہ آپ کے اختیارات استعمال کرتا ہے، جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سکیورٹی کے حوالہ سے ایک میٹنگ تھی، جس کی وجہ سے نہیں آسکا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ آپ کو بلایا تو آپ کو ہی آنا چاہیے، یہ 1966 کا کیس ہے ابھی تک پلاٹ کیوں نہیں دیا، ابھی یہ جواب دیتے ہیں اور 2023 کے کسی کا لیٹر کا حوالہ دیتے ہیں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیئے کہ یہاں لوگ روتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارے گھر گرا رہے، ہم سٹے دیتے تو رولا ڈالتے ہیں، یہ بندہ جو درخواست گزار ہے اس کے باپ کی زمین تھی اب یہ اس حالت میں ہے، اگر کوئی اور اتھارٹی ہے جس نے کرنا تو بتا دیں اس کا آرڈر کر دیتا ہوں۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ میری ذمہ داری ہے، پہلی مرتبہ لوگوں سے ملاقات کرنا شروع کی، ای الیون سیکٹر چالیس سال سے بنا رہے، ایک شہری آیا میرا باپ فوت ہوگیا اب میں بھی رل رہا ہوں، بہت سارے مسائل ہیں، جو کو دیکھ رہے ہیں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ یہ اس دھرتی کا کیس ہے یہ اس کے مالک ہیں ان کا احترام کریں، آپ پلاٹ دے کر کینسل کر دیتے، مسجد نبوی کی تعمیر میں حضرت محمد نے تعمیر رکوا دی کہ ایک متاثرہ کو معاوضہ کی ادائیگی تک تعمیر مکمل نہیں ہوگی، یہ سیکٹرز کیا مسجد نبوی سے زیادہ اہم ہیں، سڑکیں بنائیں یا پل جو بھی ہو متاثرین کو معاوضہ پہلے دیا جائے، متاثرین کا ایک سیل بنا دیں آپ کو پتا چلے کہ ان کے کیا کیا مسائل ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ہم ان کا معاملہ فوری حل کر دیں گے یہ ہمارے پاس آئیں، جس پر جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست گزار سے کہا کہ آپ ان کے پاس چلے جائیں، ہم کیس زیر التواء رکھیں گے، عدالت نے سماعت آئندہ ہفتہ کیلئے ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت کے قیام کے وقت 1966ء میں شہری کی زمین ایکوائر کی تھی، سی ڈی اے نے زمین کے متبادل پلاٹ 60 سال بعد الاٹ کیا اور پھر اسے فوری منسوخ کر دیا، بزرگ شہری نے پلاٹ الاٹمنٹ منسوخی کو چیلنج کر رکھا ہے۔