خلاصہ
- لاہور:(دنیا نیوز) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مارچ ملتوی کیے جانے پر طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے تین پوسٹرز سوشل میڈیا پر شیئر کر دیے۔
عظمیٰ بخاری کی جانب سے شیئر کیے گئے پہلے پوسٹر پر درج تھا، ’’انتشار مارچ ملتوی، اسلام آباد نے سکھ کا سانس لیا‘‘ جبکہ اس کے جواب میں لکھا گیا، ’’اور مارچ نے اگلی تاریخ تک سکھ کا سانس لیا۔‘‘
دوسرے مزاحیہ پوسٹر میں مکالمہ درج تھا، ’’اسلام آباد آرہے ہو؟‘‘ جس کے جواب میں ’’انتشار مارچ‘‘ کی جانب سے ’’نہیں، ابھی نہیں‘‘ لکھا گیا، جبکہ اسلام آباد کی جانب سے جواب دیا گیا، ’’اچھا، میں بھی آرام کرلیتا ہوں۔‘‘
— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) September 25, 2026
تیسرے پوسٹر میں پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کو کارکنوں سے ’’آزادی یا موت‘‘ کا سوال کرتے دکھایا گیا، جس کے جواب میں مزاحیہ انداز میں کارکنوں کی جانب سے ’’تو رین دے بھائی‘‘ کا جملہ درج کیا گیا۔
تینوں پوسٹرز میں سہیل آفریدی کو افسردہ دکھایا گیا ہے، عظمیٰ بخاری نے پوسٹرز کے ذریعے پی ٹی آئی کے مارچ ملتوی ہونے پر طنزیہ انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کیا۔