دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں منچھر جھیل کا زہریلا پانی اور مٹیاری شوگر ملز کا کیمیکل زدہ پانی شامل ہو رہا ہے، سپرنٹنڈنٹ انجینئر کلری بگھاڑ ڈویژن کوتحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا۔

محکمہ آبپاشی نے پانی کے استعمال سے مختلف بیماریاں گردے فیل ہونا ہیپاٹائٹس، جلد، پیٹ کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا، دریائے سندھ میں ٹی ڈی ایس کی شرح انتہائی زیادہ ہونے پر پانی کے استعمال روکا جائے۔

محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر کو ٹی ڈی ایس 660 تھی جو یکم اکتوبر سے بڑھ کر 940 تک پہنچ چکی ہیں، ڈبلیو ایچ او کی حد 1000 ایم جی ایل ہے، جامعہ مہران کے واٹر کوالٹی کنٹرول لیب کی رپورٹ کے مطابق پانی انتہائی زہریلا ہو چکا ہے۔

محکمہ آبپاشی نے بتایا کہ دریائے سندھ میں تازہ پانی چھوڑنے کی اس وقت بہت ضرورت ہے، کوٹری بیراج سے حیدرآباد جامشورو کوٹری سمیت کراچی کو بھی پانی کی فراہمی ہوتی ہے۔

محکمہ آبپاشی کا مزید کہنا ہے کہ واٹر سیوریج اتھارٹی حیدرآباد محکمہ پبلک ہیلتھ حیدرآباد جامشورو سمیت دیگر تمام لوکل گورنمنٹ ادارے پانی کی سپلائی فی الوقت بند کریں۔