گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو

گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو

شہرِ قائد میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں پانی کی قلت کا مسئلہ موجود ہے، تاہم سندھ بالخصوص کراچی اس قلت سے زیادہ متاثر ہے، سندھ اور کراچی کو ان کے حق کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو جتنا پانی ملنا چاہیے، اتنا نہیں مل رہا، کراچی کو بھی واٹر ایکارڈ کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جاتا، حالانکہ واٹر ایکارڈ میں خاص طور پر کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کا ذکر موجود ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت صرف سندھ کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، تاہم سندھ اور کراچی میں صورتحال زیادہ سنگین ہے، کراچی میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ چند ماہ قبل کیماڑی میں 25 ملین گیلن پانی کے ٹریٹمنٹ منصوبے کا افتتاح بھی کیا گیا تھا، کراچی شہر کی خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا اور شہریوں کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اُنہوں نے وفاق سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو پانی کے ساتھ ساتھ گیس بھی پوری نہیں دی جا رہی، اس کے باوجود مذاق اڑایا جاتا ہے کہ سندھ کے پاس پانی اور گیس نہیں ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ سندھ اور کراچی کو ان کے طے شدہ حصے کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ 

 بلاول بھٹو زرداری کا دہشت گردی کو ملک کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے اثرات براہِ راست کراچی تک پہنچتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو سیاسی مسئلے کے بجائے قومی مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور اس کے مقابلے کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہونا بھی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

بلاول بھٹو زراری نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو آئینی ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اس سے پہلے سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور سیاسی طور پر مسئلے کا حل نکالا جائے، کہ پیپلز پارٹی نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ پی ٹی آئی سے بات چیت کرکے مارچ ختم کرایا جائے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی  نے کہا کہ بم گرانے سے پہلے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے، ان کے مطابق وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان دہشت گردی کے مقابلے کے لیے معاہدہ ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو زراری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کو اہم مسئلہ سمجھتی ہے اور چاہتی ہے کہ ملک میں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے، اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات پورے ملک میں پھیل سکتے ہیں۔