میر رضا کیس: کمیشن نے سی پی ایل سی نمائندے اور تفتیشی افسر کے بیانات ریکارڈ کر لیے

میر رضا کیس: کمیشن نے سی پی ایل سی نمائندے اور تفتیشی افسر کے بیانات ریکارڈ کر لیے

کمیشن نے آخری اجلاس میں سی پی ایل سی کے نمائندے کاشف افتخار اور تفتیشی افسر سراج لاشاری کے بیانات ریکارڈ کیے اور میر رضا کی گمشدگی، جائے وقوعہ، جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل فون، ایپل واچ، مشکوک گاڑیوں اور تفتیش کے مختلف پہلوؤں سے متعلق تفصیلی سوالات کیے، کمیشن کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے 15 اکتوبر تک مہلت حاصل ہے۔

سی پی ایل سی نمائندے کاشف افتخار نے کمیشن کو بتایا کہ تمام دستیاب ڈیجیٹل ریکارڈ کا جائزہ لینے کے باوجود کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکا۔ جیو فینسنگ کے دوران بھی کوئی مشکوک نمبر یا میر رضا سے غیر معمولی رابطہ سامنے نہیں آیا۔

تفتیشی افسر سراج لاشاری سے کمیشن نے دفعہ 161 کے بیانات، مشکوک افراد اور جائے وقوعہ پر شواہد خراب ہونے سے متعلق سخت سوالات کیے۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ گواہان پولیس کو دیے گئے اپنے بیانات تسلیم نہیں کر رہے، جبکہ پولیس نے گواہان سے صرف مالی معاملات سے متعلق سوالات کیے۔

اِسی طرح تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہائی پروفائل کیس میں آپریشن اور انویسٹی گیشن پولیس مشترکہ طور پر کام کرتی ہے۔ کرائم سین پر آگ لگانے والے پولیس افسر سے بھی تحقیقات کی گئیں جبکہ میر رضا کی کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق مزید معلومات کے لیے این سی سی آئی اے کو خط لکھا گیا ہے۔ کمیشن نے میر رضا کے جسم سے ملنے والے انیستھیسیا سے متعلق بھی مزید تحقیقات کی ہدایت کردی۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کا دوبارہ بیان ریکارڈ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایک ڈاکٹر کے بیان کو اتنی اہمیت کیوں دی جارہی ہے؟ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ تاثر دیا جارہا ہے کہ آٹھ ڈاکٹرز غلط اور صرف ڈاکٹر اسامہ درست ہیں، تفتیشی افسر نے بتایا کہ دونوں رپورٹس میں ابہام کے باعث سپر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

میر رضا کی منگیتر سے گفتگو سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر بھی کمیشن نے پولیس کو ہدایت کی کہ ذاتی گفتگو لیک ہونے کی صورت میں مقدمہ درج کیا جائے۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اگر کمیشن نہ ہوتا تو خاندان کو بہت سی معلومات فراہم نہ کی جاتیں۔ کمیشن نے پولیس کی جانب سے غفلت پر چھوٹے افسران کی معطلی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اصل کام اوپر کی سطح پر ہوا۔

مزید برآں خاندان کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کی رپورٹ خاندان کو فراہم کرنے کی درخواست کی، تاہم کمیشن نے قرار دیا کہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کی صوابدید پر رکھی جائے گی۔