خلاصہ
- کراچی:(دنیا نیوز) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے پیپلزپارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق اپنا موقف واضح کرے۔
شہرِ قائد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ گورنر راج کے مخالف ہونے کا بیان دے رہے ہیں، جبکہ صدر مملکت کے اقدامات سے مختلف تاثر مل رہا ہے، لہٰذا پیپلزپارٹی کو اس معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر صدر مملکت پیپلزپارٹی سے الگ مؤقف رکھتے ہیں تو اس کا واضح اعلان کیا جائے، صدر مملکت نے گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق احکامات پر دستخط کیے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وزیراعلیٰ کو بھی سمجھائیں کہ سندھ میں ایسی صورت حال پیدا نہ ہو کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت آجائے۔
رہنما ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ صدر مملکت کچھ اور کہہ رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کا بیان مختلف ہے، پیپلزپارٹی کی دوہری پالیسی نہیں چل سکتی، اسے اپنے مؤقف میں یکسانیت پیدا کرنا ہوگی۔
فاروق ستار نے کہا کہ دہشت گردی کے خدشات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آپریشن کی صورت میں دہشت گرد وہاں سے فرار ہوکر کراچی کا رخ کرسکتے ہیں، جہاں ان کے سلیپر سیلز بھی موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں دہشت گردی اور سیاست کے گٹھ جوڑ پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ سندھ میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے سلیپر سیلز اور انتہا پسندی کے مراکز کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔
سربراہ ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاری کریں کیوں کہ سندھ میں بھی انتہا پسندی کے مراکز موجود ہیں۔
فاروق ستار کا ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی میں افواج پاکستان کی کامیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ افواج پاکستان کو سرخرو کرے۔