خلاصہ
- کوئٹہ: (دنیا نیوز) وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ قلعہ عبداللہ واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، واقعہ پر دلی دکھ اور افسوس ہے۔
وزیر داخلہ میرضیاء لانگو نے قلعہ عبداللہ کے علاقے جنگل پیر علیزئی میں جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دھرنے میں آنے کا مقصد اپنے عوام کے دکھ کا احساس ہے، جس سے غافل نہیں ہوں گے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ قلعہ عبداللہ کا واقعہ اسلامی، پشتون اور بلوچ روایات کے منافی ہے، بلوچ اور پشتون روایات میں جنگ کے دوران گھر، خواتین اور بچے مستثنیٰ ہوتے ہیں، جو لوگ خواتین اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ ہماری روایات اور معاشرے کا حصہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ایسے واقعات کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرتی ہیں، بحیثیت پاکستانی ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک میں دہشت گرد موجود ہیں، کچھ سیاسی جماعتیں دہشت گردی کا تمام ملبہ حکومت پر ڈال دیتی ہیں اور عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
وزیر داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ حکومت ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے، سانحہ زیارت کے دھرنے میں دہشت گردی کے خلاف بات کرنے کے بجائے سارا ملبہ حکومت پر ڈال دیا گیا، کیا حکومت اپنے ہی لوگوں کو مارے گی؟
انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار ریاست کے اپنے جوان تھے، میں خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہوں، آتے ہوئے مجھ پر حملہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے میری جان بچائی، عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے مزید کہا کہ ہمیں متحد ہوکر دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنا اور ریاست کا ساتھ دینا ہوگا، دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں حکومت کی تمام تر ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، مہاجرین کی واپسی اور پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے ریاستی فیصلوں کا ساتھ دینا ہوگا۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ دوغلے پن کا رویہ ترک کرکے ملک کے مفاد میں یک زبان ہونا ہوگا، منشیات کے خاتمے کے لئے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، سخت کارروائی کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دھرنے کے شرکاء صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کے لئے تیار ہے۔