کوئٹہ:(دنیا نیوز) بلوچستان کے سرکاری ملازمین کے کنڈکٹ رولز میں اہم ترامیم سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا۔
گورنر بلوچستان کی منظوری سے چیف سیکرٹری بلوچستان نے اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق سرکاری ملازمین پر ہڑتال، دھرنے اور گھیراو میں شرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ نئے ترامیم میں کسی بھی قسم کی ہڑتال کو بدعنوانی اور مس کنڈکٹ قرار دے دیا گیا، دو سرکاری نوکریاں بیک وقت رکھنے پر ملازمت سے برطرفی اور مقدمہ ہوگا، سرکاری ملازمین کو نجی اداروں، ٹرسٹس اور این جی اوز سے وابستگی کی اجازت نہیں۔
اِسی طرح یونین یا ایسوسی ایشن کی منظوری چیف سیکرٹری بلوچستان سے مشروط ہو گی، غیر منظور شدہ ایسوسی ایشن کی رکنیت پر پابندی عائد کردی گئی، سرکاری دفاتر کی دیواروں پر پوسٹرز اور نوٹس لگانے پر بھی پابندی عائد کردی۔
اعلامیہ میں یہ انتباہ بھی جاری ہوا کہ سرکاری ملازمین کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال کے نئے قواعد نافذ عمل ہے ، حکومتی امور پر سوشل میڈیا پر بحث یا معلومات شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی، سرکاری دفتر کی گھیراو یا دفتری تالہ بندی پر فوجداری کارروائی ہوگی۔
علاوہ ازیں ہڑتال کے باعث غیر حاضری کو بریک ان سروس تصور کیا جائےگا، ایسوسی ایشن کی خلاف ورزی پر رجسٹریشن منسوخ کی جا سکے گی جب کہ چیف سیکرٹری کو ایسوسی ایشنز کی منظوری اور منسوخی کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔


