خلاصہ
- پشاور: (دنیا نیوز) حکومت کی عدم دلچسپی یا تاریخی ورثے کی ناقدری، ضم اضلاع میں تاریخی مقامات اور ورثے غیر محفوظ۔
ہزاروں تاریخی مقامات موجود ہونے کے باوجود اس کا تحفظ یقینی نہیں بن سکا ، 2018 میں فاٹا انضمام کے بعد تمام اضلاع میں خیبرپختونخوا اینٹیوکیٹی ایکٹ 2016 نافذ العمل ہوگیا ہے۔
کئی برسوں بعد بھی ضم اضلاع میں اس ایکٹ پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا، تاریخی نوادرات کی سمگلنگ روکی جاسکی اور نہ ہی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا عمل شروع ہوسکا۔
برسوں بعد ضم اضلاع میں سٹاف کی تعیناتی کی جاسکی اور نہ ہی وہاں تاریخی مقامات کے تحفظ کے لئے کوئی اقدام کیا جاسکا۔
حکام کے مطابق ضم اضلاع میں تاریخی مقبرے، مزارات، قلعے، تاریخی عسکری عمارتیں موجود ہے، ضم اضلاع میں ہزاروں سکھ ،ہندو اور بدمت کی عبادت گاہیں موجود ہیں۔
صرف ضلع مہمند میں 4 ہزار سے زائد تاریخی مقامات موجود ہیں، محکمہ آثار قدیمہ کا ضلع مہمند میں صرف1، خیبر میں 10 اہلکار موجود ہیں، بدامنی کے باعث ضم اضلاع میں دفاتر قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں دفاتر کا قیام کیا جائے گا، پھر سٹاف کی تعیناتی ہوگی، سٹاف ہوگا تو تاریخی مقامات کا تحفظ ممکن ہوسکے گا۔