اسلام آباد:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر عملدرآمد میں کافی پیشرفت ہو چکی ہے، لیکن کمیٹی کے اراکین کی طرف سے مذاکرات میں عدم شرکت افسوس ناک ہے۔
انہوں نے کمیٹی کو مذاکرات کے لیے دعوت دی ہے، تاہم طے شدہ میٹنگ میں کمیٹی کے ممبران شریک نہیں ہوئے۔
وزیر امور کشمیر امیر مقام نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی، اس موقع پر وزیر خزانہ آزاد کشمیر چودھری قاسم مجید، وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہاکہ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک ماہ میں کئی کابینہ اجلاس کیے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 172 ایف آئی آرز ختم کر دیں، اور سنگین نوعیت کی صرف 15 ایف آئی آرز باقی رہ گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت احتجاج کے دوران معطل کیے گئے ملازمین کو بحال کر دیا گیا اور لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے کام جاری ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آزاد کشمیر میں کئی مسائل حل کیے جا چکے ہیں جیسے کہ میڈیکل کالجز میں اوپن میرٹ کی پالیسی کا نفاذ اور واٹر سپلائی سکیموں پر عملدرآمد۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی آزاد کشمیر کا دورہ کیا اور کشمیریوں کو یقین دہانی کروائی۔
انجینیئر امیر مقام نے کہا کہ معاہدے کے مطابق پراپرٹی کے ٹرانسفر سے متعلق آرڈیننس صدر کو بھیجا گیا ہے اور یو ایس ایف کے سی ای او کی تقرری کر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کابینہ نے دو تعلیمی بورڈز کی منظوری دے دی ہے اور سٹوڈنٹ یونین کو بھی بحال کر دیا گیا ہے۔



























































