اسلام آباد:(دنیا نیوز)پاکستان میں گزشتہ 10 برس کے دوران خام چینی کی درآمدات اور برآمدات سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، وزارتِ صنعت کی دستاویزات کے مطابق 10 سال میں پاکستان نے خام چینی کی درآمد پر 31 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔
دستاویزات کے مطابق سال 2015 سے 2025 کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 1 ارب 60 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کی چینی برآمد کی۔ تاہم وزارتِ صنعت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی چینی کی برآمدات عالمی سطح پر نہایت محدود اور غیر مستقل رہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 برس میں ملک میں گنے کے زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ ہوا ہے، جو بڑھ کر 11 لاکھ 95 ہزار ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر چینی پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک ہے۔
وزارت صنعت کی دستاویز کے مطابق پاکستان کی چینی کی برآمدات نہایت محدود اور غیر مستقل رہیں، عالمی چینی کی پیداوار میں پاکستان کا حصہ صرف 6 فیصد ہے، پاکستان میں چینی کی پیداوار20-2019 میں 4.8 اور22-2021 میں 7.8 ملین ٹن رہی۔
پاکستان کا چینی میں زیادہ انحصار مقامی گنےکی پیداوار پرہے، پاکستان میں گنے کی سالانہ پیداوار 79 ملین میٹرک ٹن ہے، پاکستان میں چقندر سے چینی کی پیداوار محض 1.16 فیصد ہے، 100 دن کے کرشنگ سیزن میں صرف 60 فیصد صنعتی ضرورت پوری ہو پاتی ہے۔
پاکستان کی شوگر ملز میں 40 فیصد پیداواری صلاحیت ضائع ہو رہی ہے، عالمی منڈی میں خام اور ریفائنڈ چینی کےدرمیان اوسطاً 73 ڈالر فی ٹن کا فرق موجود ہے، خام اور ریفائنڈ چینی کی قیمتوں میں فرق ویلیو ایڈیشن کا بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔
2023 میں ریفائنڈ چینی کی قیمت 660 ڈالر فی ٹن، خام چینی 570 ڈالر فی ٹن رہی، 2024 میں ریفائنڈ اور خام چینی کےدرمیان قیمت کا فرق 54 ڈالر فی ٹن رہا۔



























































