خلاصہ
- لاہور:(دنیا نیوز) پاکستان کے ترقیاتی اہداف وسائل اور گورننس دونوں کے بحران میں پھنس گئے۔
سرکاری رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ 2030 کے ترقیاتی اہداف خطرے میں ہے، ایس ڈی جیز پورے کرنے کیلئے پاکستان کو سالانہ 46 ارب ڈالر اضافی درکار ہیں۔
وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے سمال ڈویلپمنٹ گولز فنانسنگ گیپ رپورٹ مرتب کر لی گئی، ایس ڈی جیز رپورٹ نے حکومتی پالیسی ترجیحات اور مالی حقیقت میں واضح تضاد کی نشاندہی کردی، وفاقی دستاویز نے ترقیاتی رفتار جمود کا شکار ہونے کی تصدیق کردی ۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ترقیاتی وعدے اور بجٹ وسائل میں واضح عدم مطابقت ہے، ترقیاتی خواب اور بجٹ کی حقیقت، ایس ڈی جیز اور جی ڈی پی میں 15 فیصد خلا موجود ہے، پاکستان کو ایس ڈی جیز کیلئے جی ڈی پی کا 15 تا 17 فیصد سالانہ خرچ کرنا ہوگا۔
اِسی طرح ایس ڈی جیز کا مالی خلا آئی ایم ایف تخمینے کے مطابق جی ڈی پی کا تقریباً 16 فیصد سالانہ ہے، موجودہ ترقیاتی اخراجات ناکافی ہیں، وفاقی حکومت نے تسلیم کرلیا، یہ ہدف قریب المدت بجٹ ٹارگٹ نہیں بلکہ پلاننگ ٹول ہے۔
وزارت منصوبہ بندی نے رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ موجودہ مالی گنجائش یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی، پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریٹ تقریباً 11 فیصد ہے جو ایس ڈی جیز کیلئے ناکافی قرار کیا، محدود ٹیکس وسائل ترقیاتی اہداف کی بڑی رکاوٹ بن گئے۔
سرکاری رپورٹ میں لکھا گیا کہ وسائل کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے، ترقیاتی فنڈز بار بار ہنگامی اخراجات کی نذر ہو گئے، سیلاب، کووڈ اور معاشی جھٹکوں نے ترقیاتی وسائل سمیٹ دیے، ترقیاتی بجٹ ریلیف اور ریکوری کی طرف بار بار منتقل ہوا۔
وزارت منصوبہ بندی کا کہنا اگر اخراجات کا ڈھانچہ نہ بدلا گیا تو اہداف مزید پیچھے جائیں گے، موجودہ گورننس فریم ورک ایس ڈی جیز کیلئے مؤثر نہیں، 2026 تا 2030 کو فیصلہ کن مگر خطرناک مرحلہ قرار دے دیا۔
انسانی ترقی کے اشاریے علاقائی ممالک سے پیچھے قرار دے دیا گیا، تعلیم، صحت اور پانی کو سب سے بڑے مالی خلا کا شکار قرار دیا گیا، اگر فوری اصلاحات نہ ہوئیں تو 2030 اہداف ناقابلِ حصول ہو جائیں گے۔